جان ایف کینیڈی کا قتل اور اسرائیل کا ایٹم بم، کس طرح پنسلوانیا سے ایٹمی مواد تل ابیب پہنچا؟

تاریخی دستاویزات اور تحقیقاتی رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور اسرائیل کے درمیان جوہری پروگرام پر شدید تنازع پیدا ہوا تھا۔
کینیڈی اسرائیل کے ایٹمی عزائم کو عالمی امن کے لیے خطرہ سمجھتے تھے اور انہوں نے تل ابیب سے ایٹمی تنصیبات کے مکمل معائنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم، ان کے قتل کے بعد آنے والے صدور نے اس دباؤ کو ختم کر دیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نہ صرف ایٹمی قوت بن گیا بلکہ امریکی سرزمین سے بھاری مقدار میں ایٹمی مواد کی چوری کے شواہد بھی سامنے آئے۔
پچاس کی دہائی کے اواخر میں فرانس نے عرب قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر خفیہ طور پر اسرائیل کو نیگیو کے علاقے ڈیمونا میں ایک جوہری ری ایکٹر اور پلوٹونیم کی علیحدگی کا پلانٹ بنانے میں مدد فراہم کی۔

اسرائیل نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اسے ایک تحقیقاتی مرکز قرار دیا، لیکن امریکہ کے یو ٹو جاسوس طیاروں نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ یہ محض کوئی مرکز نہیں بلکہ ایک مکمل ایٹمی ہتھیاروں کا پلانٹ ہے، جو تمام تر تکنیکی خصوصیات میں جوہری بم بنانے والی تنصیبات سے مماثلت رکھتا تھا۔
جب جان ایف کینیڈی نے 1961 میں صدارت کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے اسرائیل کے اس جوہری پروگرام کو دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اپنی تنصیبات تک امریکی معائنہ کاروں کو مکمل رسائی دے اور خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے جھوٹ بولنا بند نہ کیا تو وہ امریکہ کی حمایت سے محروم ہو سکتا ہے۔
اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان نے پہلے تو اس تنصیب کو صحرائی گھاس کے میدانوں پر تحقیق اور کیمیائی تجربہ گاہ قرار دے کر کینیڈی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب دباؤ بڑھا تو انہوں نے امریکی الٹی میٹم ماننے کے بجائے عہدے سے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے زیرِ زمین میزائل شہر، ریل نظام اور خودکار لانچرز، جسے جدید بم بھی تباہ نہ کرسکے
امریکی معائنہ کاروں کو دھوکہ دینے کے لیے اسرائیل نے انتہائی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ معائنے کے دوران وہاں مصنوعی دیواریں کھڑی کر دی گئیں اور خفیہ کمروں کو چھپا دیا گیا تاکہ ہتھیار بنانے والی مشینری نظر نہ آ سکے۔
تاہم صدر کینیڈی ان حربوں سے متاثر نہ ہوئے اور جون 1963 میں انہوں نے کسی بھی وقت اچانک معائنہ کرنے کا حتمی مطالبہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکی صہیونی کونسل پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ خود کو ایک غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر رجسٹر کرائے۔
اس سخت گیر مؤقف کے محض پانچ ماہ بعد 22 نومبر 1963 کو صدر کینیڈی کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی موت کے ساتھ ہی اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دور ہوگئی اور مطلوبہ معائنے کبھی نہ ہو سکے۔

کینیڈی کے بعد آنے والے صدر لنڈن بی جانسن نے اسرائیل پر ایٹمی پروگرام ختم کرنے کا دباؤ خاموشی سے ختم کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر لنڈن بی جانسن کی قریبی عزیزہ جیسی جانسن ہیچر خود بھی امریکہ کی صہیونی تنظیم کی سرگرم رکن تھیں۔ یہاں سے امریکی سیاست پر صہیونی اثر و رسوخ کا وہ دور شروع ہوا، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اپنے عروج پر پہنچ گیا۔
کینیڈی کی موت کے ایک سال بعد پنسلوانیا کے نیومک پلانٹ سے سینکڑوں پاؤنڈ ہتھیار بنانے کے قابل یورینیم پراسرار طور پر غائب ہو گیا۔ اس پلانٹ کے سربراہ ایک کٹر صہیونی ڈاکٹر زلمین شاپیریو تھے، جن کے اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کے ساتھ گہرے روابط تھے۔
عینی شاہدین نے بعد میں بتایا کہ افزودہ یورینیم کو ٹرکوں پر لاد کر اسرائیل روانہ کیا گیا تھا۔ جب ایٹمی توانائی کمیشن نے ریکارڈ طلب کیا تو ہڑتال کا بہانہ بنا کر فائلوں کے غائب ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
بعد ازاں سی آئی اے کی تحقیقات میں یہ تصدیق ہوگئی کہ ڈیمونا کے قریب پائے جانے والے یورینیم کے نمونے بالکل وہی تھے جو امریکی بحری ری ایکٹرز کے لیے تیار کئے گئے تھے۔
1981 میں سی آئی اے کے نائب ڈائریکٹر کارل ڈکٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایجنسی کے اندر اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ امریکی ایٹمی مواد چوری کر کے اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں میں استعمال کیا گیا تھا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












