امریکی و اسرائیلی حملوں میں 26 طبی اہلکار شہید، 2 ہزار سے زائد بچے زخمی ہوئے، ایران

ایران کے محکمہ ہنگامی حالات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں میں 2 ہزار سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں جبکہ طبی عملے کو بھی بدترین حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کے محکمہ ہنگامی حالات کے سربراہ جعفر میاد فر نے حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی دل دہلا دینے والی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
مہر نیوز ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں 2 ہزار 115 ایسے افراد زخمی ہوئے، جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔ ان معصوم متاثرین میں 124 بچے 5 سال سے کم عمر کے ہیں جبکہ 24 شیر خوار بچوں کی عمریں تو 2 سال سے بھی کم بتائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ہمیں مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں، گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے، ایران
اس کے علاوہ 5 ہزار سے زائد خواتین بھی ان حملوں کی زد میں آ کر زخمی ہوئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں دارالحکومت تہران کے علاوہ خوزستان، لورستان، اصفہان، کرمانشاہ اور ایلام شامل ہیں۔
جعفر میاد فر نے مزید بتایا کہ ان حملوں میں عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے طبی عملے اور اسپتالوں کو بھی دانستہ نشانہ بنایا گیا۔ اب تک 144 ہیلتھ کیئر ورکرز ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 26 اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
حملوں میں 400 سے زائد طبی یونٹس، ستاون ہنگامی مراکز اور سینتالیس ایمبولینسیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ فضائی اور سمندری ایمبولینس کے طور پر استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔
محکمہ صحت کے سربراہ نے اسپتالوں میں موجود عملے کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










