منگل، 14-اپریل،2026
منگل 1447/10/26هـ (14-04-2026م)

سندھ میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ، تین ماہ میں 894 نئے کیسز رپورٹ

14 اپریل, 2026 15:22

محکمہ صحت سندھ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہا ہے، جہاں رواں سال کے صرف پہلے تین ماہ میں 894 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

سندھ میں ایچ آئی وی اور ایڈز کی صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے اور محکمہ صحت اس وبا پر قابو پانے میں مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، جنوری سے مارچ 2026 کے دوران صوبے میں ایچ آئی وی کے 894 نئے مریض سامنے آئے ہیں، جن میں 332 مرد، 204 خواتین اور 29 خواجہ سرا شامل ہیں۔

سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے اعداد و شمار بچوں کے ہیں، جہاں 329 بچے اس وائرس کا شکار پائے گئے ہیں۔ ان بچوں میں 14 سال تک کی عمر کے 188 لڑکے اور 141 لڑکیاں شامل ہیں، جو بڑی حد تک طبی نظام کی لاپروائی کا شکار ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ میں موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم، ایکسائز دفاتر رات بارہ بجے تک کھلے رہنے کا اعلان 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی بنیادی وجوہات میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر معیاری ڈرپ، غیر محفوظ انتقالِ خون اور اسپتالوں میں غیر اسٹریلائز طبی آلات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ نائی کی دکانوں پر استعمال شدہ استرے اور بلیڈ بھی وائرس کی منتقلی کا ایک بڑا سبب بن رہے ہیں۔ ایچ آئی وی متاثرہ ماؤں سے ان کے بچوں میں بھی منتقل ہو رہا ہے۔

ایچ آئی وی انسانی جسم کی قوتِ مدافعت کو ختم کر دیتا ہے، جس کے بعد ایڈز کی شکل میں انسان متعدد بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔

اگرچہ حکومت پاکستان اس کی ادویات مفت فراہم کر رہی ہے، لیکن احتیاط اور آگاہی کی کمی اس مرض کو سندھ کے گلی کوچوں تک پھیلا رہی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔