اسرائیل نے دوران مذاکرات لبنان کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کردیا

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور شروع ہو گیا ہے، جس میں اسرائیل نے جنوبی لبنان کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا متنازع ترین منصوبہ پیش کیا ہے۔
امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ ملاقات امریکی محکمہ خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے لبنان کے سامنے انتہائی سخت اور متنازع شرائط پیش کی ہیں، جن کے تحت جنوبی لبنان کو تین مختلف زونز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس اسرائیلی منصوبے کے تحت پہلے زون کو آٹھ کلومیٹر گہرا مستقل بفر زون بنایا جائے گا، جہاں سے نقل مکانی کرنے والے لبنانی شہریوں کو دوبارہ واپس آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دوسرے زون کے طور پر دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے کو اسرائیلی فوجی آپریشن کا مرکز بنایا جائے گا تاکہ وہاں حزب اللہ کے ڈھانچے کو ختم کیا جا سکے اور اسرائیلی فوج مشن مکمل ہونے تک وہاں مقیم رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کی یورپی ممالک کو کھلی دھمکی، یہ رویہ کبھی نہیں بھولوں گا، نیتن یاہو
تیسرے زون میں دریائے لیطانی کے شمالی علاقوں اور باقی لبنان کو شامل کیا گیا ہے، جہاں لبنانی فوج کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ حزب اللہ کا مکمل خاتمہ کرے۔ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جب تک حزب اللہ کا مکمل صفایا نہیں ہوتا وہ اپنی افواج واپس نہیں بلائے گا۔
اس صورتحال پر حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ براہ راست کسی بھی قسم کے رابطے یا مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ قومی اتفاق رائے کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اور بیرونی دباؤ کے تحت لیے گئے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔
شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس غیر منصفانہ فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ یہ اقدام لبنان کی داخلی وحدت اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ بیروت میں بھی عوامی سطح پر ان مذاکرات کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









