جمعہ، 17-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/29هـ (17-04-2026م)

پاکستان کا افغانستان پر انحصار ختم، ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک برآمدات کا آغاز

15 اپریل, 2026 13:23

پاکستان نے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن نے گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی ترسیلی نظام کے لیے مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔

پاکستان کے قومی ادارے نیشنل لاجسٹک کارپوریشن نے ایران اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی سڑکوں کے ذریعے ترسیلی نظام کے لیے فعال کر دیا ہے۔

اس اہم پیش رفت کے بعد اب پاکستان کی علاقائی تجارت کو نیا رخ ملے گا اور ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی نہ صرف ممکن بلکہ نہایت آسان ہو جائے گی۔

یہ نیا راستہ روایتی افغان روٹ کے مقابلے میں زیادہ مختصر، محفوظ اور جدید ترین سہولیات سے لیس ہے۔ اس سنگِ میل کا عملی آغاز اس وقت ہوا، جب کراچی سے تاشقند کے لیے بھیجے گئے گوشت کے کنٹینروں کی ترجیحی ہینڈلنگ اور کلیئرنس گبد بارڈر پر مکمل کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : طالبان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور اسلحہ فراہم کر رہے ہیں، سابق اعلیٰ افغان عہدیدار

کسٹم کی تمام قانونی کارروائیوں کے بعد یہ کھیپ بین الاقوامی ترسیلی فریم ورک کے تحت ایران کے راستے کامیابی سے ازبکستان روانہ کر دی گئی ہے۔

نیشنل لاجسٹک کارپوریشن نے پاک ایران تجارت کو باضابطہ بنانے کے لیے مارچ 2026 میں گبد بارڈر ٹرمینل کی تعمیر مکمل کی تھی اور اب اسے چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ جوڑ کر متعدد تجارتی راہداریوں کو فعال کر دیا گیا ہے۔

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹریٹیجک طور پر یہ اقدام پاکستان کو ریجنل کنیکٹیویٹی ہب بنا دے گا، جس سے لاجسٹکس کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور تجارت کے حجم میں اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق گوادر پورٹ کے قریب واقع یہ گبد رمدان راہداری مستقبل میں ایک کلیدی تجارتی گزرگاہ کے طور پر ابھرے گی، جس سے پاکستان کا افغانستان پر تجارتی انحصار مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہِ راست رسائی سے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔