سندھ حکومت کا امتحانات میں نقل کرنے والے طلبہ پر تاحیات پابندی لگانے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں نقل کے مکمل خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کر دی، نقل میں ملوث طلبہ کے تمام پرچے منسوخ کر دیئے جائیں گے اور ملوث عملے کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
صوبہ سندھ میں تعلیمی بورڈز کے زیر اہتمام ہونے والے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے صوبائی حکومت نے انتہائی سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی وزراء اسماعیل راہو اور سردار شاہ نے واضح کیا ہے کہ امتحانات کے دوران نقل کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
نئی پالیسی کے تحت اگر کوئی طالب علم نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا یا اس کے پاس موبائل فون اور دیگر غیر قانونی مواد برآمد ہوا، تو اسے فوری طور پر امتحانی عمل سے خارج کر دیا جائے گا اور اس کے تمام پرچے منسوخ کر دیئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ میں 31 ارب روپے سے زائد کا گندم اسکینڈل، کیس نیب کو بھیجنے کا فیصلہ
مزید برآں، ایسے طلباء کو نہ صرف موجودہ امتحانات بلکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی بورڈ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کا مطلب ان کے تعلیمی کیریئر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
نقل کی روک تھام کے لیے صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ امتحانی عملے کے خلاف بھی کڑی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسماعیل راہو کے مطابق اگر کوئی انویجیلیٹر، انٹرنل یا ایکسٹرنل ممتحن یا کوئی بھی انتظامی افسر نقل کروانے یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث پایا گیا، تو اسے فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا اور اس کے خلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
امتحانی مراکز پر نگرانی کے نظام کو مزید جدید اور سخت بنایا جا رہا ہے تاکہ بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد میرٹ کی بالادستی قائم کرنا اور محنتی طلباء کے حق کی حفاظت کرنا ہے تاکہ سندھ کے تعلیمی نظام کی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









