وسائل سے زیادہ اخراجات کا خمیازہ عوام اضافی ٹیکسوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں، شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی نے حکومتی بجٹ کو بے معنی قرار دیا ہے اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بجٹ پر کڑی تنقید کی ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ حکومت کا پیش کردہ بجٹ بالکل بے معنی ہوکر رہ گیا ہے، جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھیں : بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، زراعت، ایکسپورٹرز اور صنعت کاروں کو بڑا ریلیف دیا گیا، وزیر خزانہ
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے بے پناہ اخراجات کا یہ عالم ہے کہ صرف پنشن کی ادائیگیوں پر ہی 100 ارب روپے سے زیادہ کا خرچہ آئے گا، جو کہ معیشت پر ایک بڑا بوجھ ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بجٹ کو بہتر بنانے کیلئے دنیا کے دیگر ممالک کے پیش کردہ بجٹ اسٹرکچر کا بھی گہرائی سے جائزہ لے تاکہ معلوم ہو سکے کہ بجٹ کیسے بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب حکومت اپنے دستیاب وسائل سے زیادہ رقم خرچ کرنے کی عادی ہو جائے تو پھر ان اخراجات کو پورا کرنے کیلئے عوام پر اضافی اور بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں، جو کہ سراسر زیادتی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











