ایران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے، وائٹ ہاؤس کا نیا مطالبہ

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کامیابی سے جاری ہے اور جب تک تہران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے نہیں کرتا، شرائط میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر کامیاب ہے اور اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مستقل سیز فائر کے لیے کوئی مخصوص ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی ہے، کیونکہ واشنگٹن تہران کی جانب سے ایک ٹھوس اور متفقہ جواب کا منتظر ہے۔
ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ماضی میں کافی لچک کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ کسی بامعنی ڈیل تک پہنچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کے جدید ترین ڈرونز ایرانی دفاعی نظام کے سامنے بے بس، لاکھوں ڈالرز کا نقصان
ترجمان وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ جب تک ایران کی جانب سے تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوتا، عارضی جنگ بندی برقرار رہے گی، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دباؤ کم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ کا آپریشن اکنامک فیوری یعنی معاشی غیظ و غضب مسلسل جاری ہے، جس کا مقصد ایران کی معاشی شہ رگ کو کنٹرول کرنا ہے۔ کیرولین لیویٹ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکہ کی شرائط میں کسی قسم کی نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
امریکی انتظامیہ نے ایران کے سامنے ایک نیا اور سخت مطالبہ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اپنی تمام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنا چاہیے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خطے میں ایٹمی عدم پھیلاؤ اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس اب تہران کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہا ہے تاکہ مستقبل کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












