امریکہ اور ایران ایک مستقل معاہدے کے قریب، خلیجی ممالک بھی حصہ بنیں گے، سفارتی ذرائع

اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک مستقل فریم ورک کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس میں خلیجی ممالک کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
دارالحکومت اسلام آباد سے موصول ہونے والی سفارتی اطلاعات کے مطابق حالیہ واقعات نے ایک ایسے محرک کا کام کیا ہے جس نے اس سوچ کو تقویت دی ہے کہ خطے میں دشمنی کا مستقل خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
قطری میڈیا کو ایک اعلیٰ سفارتی ذریعے نے بتایا ہے کہ فریقین اب ایک ایسے فریم ورک کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو تمام فریقوں کے درمیان معاہدے کی بنیاد فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے مذاکرات کی بحالی کیلئے تین مرحلوں پر مشتمل نیا فارمولا پیش کردیا
اس بار یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اس عمل میں صرف ایرانی اور امریکی ہی شامل نہ ہوں بلکہ خلیجی ممالک کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے۔
خلیجی ممالک کے دارالحکومتوں سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ انہیں کسی بھی ابھرتے ہوئے تصفیے میں شامل کیا جائے تاکہ 2015 کے جوہری معاہدے جیسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو، جب وہ خود کو اس عمل سے باہر محسوس کر رہے تھے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب تمام تر کوششیں ایک بڑے اور جامع معاہدے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ پاکستانی حکام اب بھی پرامید ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور جلد ہوگا، اگرچہ اس کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں, لیکن پسِ پردہ سفارت کاری پوری شدت سے جاری ہے۔
پاکستان اپنی ثالثی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










