ایران نے مذاکرات کی بحالی کیلئے تین مرحلوں پر مشتمل نیا فارمولا پیش کردیا

ایران نے عالمی ثالثوں کو مذاکرات کے لیے ایک نیا تین مرحلہ وار فارمولا پیش کر دیا ہے، جس کے تحت سب سے پہلے جارحیت کا خاتمہ اور ضمانتیں طلب کی گئی ہیں۔
تہران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک جامع تین مرحلہ وار فریم ورک تجویز کیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ اس منصوبے کو تسلیم کر لیتا ہے تو تعطل کا شکار بات چیت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
المیادین کی رپورٹ کے مطابق اس تجویز کے پہلے مرحلے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت کے فوری خاتمے اور اس بات کی ٹھوس ضمانتیں طلب کی گئی ہیں کہ ایران اور لبنان کے خلاف لڑائی دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : ہم پر حملہ ہوا تو ایک کے بدلے چار تیل کے کنوؤں کو تباہ کریں گے، ایرانی عہدیدار
اس ابتدائی مرحلے کے دوران ایران کسی دوسرے موضوع پر بات کرنے کو تیار نہیں۔ اگر پہلے مرحلے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے انتظام پر گفتگو ہوگی، جس میں سلطنت عمان کے تعاون سے اس اہم بحری گزرگاہ کے لیے ایک نیا قانونی ڈھانچہ تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تیسرا اور آخری مرحلہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہوگا، جس پر تہران صرف اسی صورت بات کرے گا، جب پہلے دو مراحل مکمل طور پر طے پا جائیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ ماسکو روانہ ہو گئے ہیں۔
ماسکو میں ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے، جس میں جنگ بندی اور مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اہم مشاورت کی جائے گی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











