صدر ٹرمپ کا قانونی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ایران کیخلاف جارحیت جاری رکھنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کیخلاف غیر مجاز فوجی کارروائیوں کی ساٹھ روزہ قانونی مدت ختم ہونے کے باوجود جنگ کو طول دینے کی کوششیں عالمی معیشت کو تباہی کے دہانے پر دھکیل سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ میں داخل ہو گئی ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کو قانونی مدت سے تجاوز کر کے مزید طول دینے کے لیے مختلف راستے تلاش کر رہے ہیں۔
واشنگٹن میں موجودہ قانونی فریم ورک کے مطابق کسی بھی غیر مجاز فوجی آپریشن کے لیے ساٹھ دن کی مہلت دی جاتی ہے، جو اب ختم ہونے کے قریب ہے، تاہم صدر ٹرمپ اس قانونی رکاوٹ کو عبور کر کے جارحیت برقرار رکھنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔
یکم مئی کو اس نوٹیفکیشن کے ساٹھ دن مکمل ہو جائیں گے، جو ٹرمپ نے کانگریس کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے بھیجا تھا۔
’وار پاورز ریزولوشن‘ کے تحت صدر پر لازم ہے کہ وہ یا تو کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کریں یا اپنی افواج کو واپس بلائیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ ان تمام قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر جنگی جنون کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ارل راسموسن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت ایک ایسی صورتحال میں پھنس چکے ہیں، جہاں سے واپسی کا راستہ مشکل دکھائی دے رہا ہے، مگر وہ اس بحران سے نکلنے کے لیے مزید مہلت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : وائٹ ہاؤس حملے کے بعد ٹرمپ کے بال روم منصوبے کیلئے عوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا دعویٰ
ان کا کہنا تھا کہ قانون صرف مخصوص حالات میں ہی محدود مدت کی توسیع کی اجازت دیتا ہے، لیکن ماضی میں بھی امریکی انتظامیہ نے بیرونی ممالک میں فوجی آپریشنز جاری رکھنے کے لیے ان پابندیوں کو پامال کیا ہے۔
راسموسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ اپنی افواج واپس بلاتے ہیں تو یہ ان کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے وہ اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے مزید آگے بڑھنے کا انتخاب کر سکتے ہیں، جس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
انہوں نے ایران پر حملے کے ابتدائی فیصلے کو ایک بڑی تزویراتی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کی وجہ سے انتظامیہ پیچھے ہٹنے کے بجائے تصادم کی راہ اختیار کر رہی ہے۔
امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ واشنگٹن اس وقت ایک بڑی شکست سے بچنے کی تگ و دو کر رہا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی توقعات اب تک غیر حقیقی ثابت ہوئی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
صدر ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ کشیدگی میں مزید اضافہ دنیا کو ایک عالمی معاشی کساد بازاری یا شدید مندی کی طرف دھکیل دے گا۔
اپریل کے وسط سے واشنگٹن نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی سمیت متعدد اقدامات کیے ہیں، جنہیں عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک براہ راست خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی عسکری حکام نے بھی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اپنی بھرپور تیاری کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا کا کہنا ہے کہ ان کی مسلح افواج جنگ کو ختم نہیں سمجھتیں اور صورتحال اب بھی جنگی ہے، جس کی بنیاد پر اہداف کی فہرستیں اور آپریشنل ساز و سامان کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











