امارات کی اوپیک سے علیحدگی اور سعودی معاشی مفادات کو لاحق شدید خطرات

متحدہ عرب امارات کا پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے انخلاء کا فیصلہ صرف ایک معاشی قدم نہیں بلکہ سعودی عرب کے ساتھ برسوں پر محیط تزویراتی تعلقات میں آنے والا اب تک کا سب سے بڑی دراڑ ہے۔ یہ اقدام خطے کی سیاست، تیل کی منڈی اور سعودی وژن 2023 کے لیے ایک سنگین خطرہ بن کر ابھرا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
متحدہ عرب امارات کا اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ خلیجی سیاست میں ایک ایسے زلزلے کے مترادف ہے، جو خطے میں سعودی عرب کی کئی دہائیوں پر محیط اجارہ داری کو ختم کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم محض پیداوار بڑھانے کی معاشی خواہش نہیں بلکہ اماراتی خارجہ پالیسی میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا عکاس ہے۔
امارات کی جانب سے اوپیک سے نکلنے کی ایک بڑی وجہ یہ پروپیگنڈا ہے کہ ’عربی یکجہتی‘ کے وعدے محض دھوکہ ثابت ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ امارات اب اپنی معاشی اور سیاسی تقدیر سعودی عرب کے سائے سے باہر نکل کر، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر طے کرنا چاہتا ہے۔
اس فیصلے کے پیچھے سعودی عرب اور امارات کے درمیان تیل کی قیمتوں پر پایا جانے والا بنیادی اختلاف ہے۔ سعودی عرب کو اپنے بڑے منصوبوں اور ’وژن 2030‘ کے لیے تیل کی قیمت اسی ڈالر سے اوپر درکار ہے، جس کے لیے وہ پیداوار میں کمی کا حامی ہے۔
اس کے برعکس امارات کی معیشت زیادہ متنوع ہے اور اس کی پیداواری لاگت دنیا میں سب سے کم ہے، اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ تیل بیچ کر مارکیٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، چاہے قیمتیں تھوڑی کم ہی کیوں نہ ہوں۔
اس فیصلے کے جیواسٹریٹیجک اثرات انتہائی گہرے ہوں گے۔ امارات کے نکلنے سے ’اوپیک پلس‘ اتحاد اس حد تک کمزور ہو سکتا ہے کہ وہ دوبارہ کبھی سنبھل نہ سکے۔
یہ بھی پڑھیں : یو اے ای اپنی زمین ایران کیخلاف استعمال نہ ہونے دے، ایران کا سلامی کونسل میں خط
سعودی عرب اب روس جیسے ممالک کے سامنے اکیلا رہ جائے گا، جو اکثر اپنی جنگی ضروریات کے لیے مقررہ حد سے زیادہ پیداوار کرتے ہیں۔
اگر سعودی عرب نے نظم و ضبط بحال کرنے کے لیے 2020 کی طرح ’پرائس وار‘ یا قیمتوں کی جنگ شروع کی تو یہ سب کے لیے تباہ کن ہوگی۔
عالمی سطح پر امریکہ اس فیصلے کو اپنی جیت کے طور پر دیکھ رہا ہے کیونکہ واشنگٹن اوپیک کو روس کا حامی سمجھتا ہے۔ امارات کا یہ قدم تیل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اوپیک کی صلاحیت کو ختم کر دے گا۔
مزید برآں، امارات کا رخ اب ایشیا کی بڑی منڈیوں جیسے چین اور بھارت کی طرف ہے، جہاں وہ براہ راست معاہدوں کے ذریعے تیل کی ترسیل کرنا چاہتا ہے۔
امارات کی اصل حکمت عملی یہ ہے کہ 2040 تک فوسل فیول (تیل و گیس) کی طلب ختم ہونے سے پہلے وہ جتنا ہو سکے تیل نکال کر پیسہ کما لے تاکہ وہ اپنے ’گرین اکنامی‘ یا سبز معیشت کے خواب کو پورا کر سکے۔
امارات نے اپنی پیداواری صلاحیت کو پانچ ملین بیرل یومیہ تک بڑھانے کے لیے 122 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اوپیک کی پابندیوں کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیت سے آدھا تیل بھی نہیں نکال پا رہا تھا۔
اگر امارات اپنی پیداوار بڑھا کر چار اعشاریہ آٹھ ملین بیرل تک لے جاتا ہے اور قیمتیں ساٹھ ڈالر تک گر جاتی ہیں، تو امارات تو منافع میں رہے گا، لیکن سعودی عرب کو ایک بڑے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ صورتحال امریکی صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جس کے تحت وہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے تیل کے بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بڑھا کر قیمتوں کو نیچے لایا جا سکے، جس کا خمیازہ براہ راست سعودی عرب کو بھگتنا پڑے گا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











