منگل، 28-اپریل،2026
منگل 1447/11/11هـ (28-04-2026م)

امریکہ میں عوامی فنڈز سے غزہ میں قتلِ عام کی مالی معاونت کا انکشاف

28 اپریل, 2026 10:27

امریکہ کی ریاست ورجینیا میں اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی رقم ان کمپنیوں میں لگائی جا رہی ہے، جو اسرائیل کو وہ تباہ کن اسلحہ فراہم کر رہی ہیں، جس سے غزہ، لبنان اور ایران میں انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔

امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی وکالتی گروپوں کے ایک اتحاد نے اپنی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ ورجینیا ریٹائرمنٹ سسٹم (وی آر ایس) نامی ادارہ کروڑوں ڈالر ان کمپنیوں میں لگا رہا ہے، جو اسرائیل کی عسکری مہم جوئی میں براہ راست مددگار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ورجینیا ریاست کے سرکاری ملازمین کی پنشن کے فوائد کا انتظام سنبھالنے والا یہ ادارہ 394 ملین ڈالر کی بھاری رقم ان اسلحہ ساز اور جہاز رانی کی کمپنیوں میں لگائے ہوئے ہے، جو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور لبنان و ایران کے خلاف جاری جنگوں میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنا رہی ہیں۔

یہ رپورٹ ‘وی آر ایس ڈیویسٹ فرام ویپنز اینڈ وار’ نامی مہم، فلسطینی یوتھ موومنٹ اور ‘پیپلز ایمبارگو فار فلسطین’ کے مشترکہ اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔

اس دستاویزی ثبوت کو تیار کرنے کے لیے عوامی طور پر دستیاب مالیاتی اعداد و شمار اور ‘فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ’ کے ذریعے حاصل کردہ ریکارڈز کا سہارا لیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پیش کیئے گئے حقائق کے مطابق، ورجینیا ریٹائرمنٹ سسٹم کے مجموعی طور پر 122 بلین ڈالر کے پورٹ فولیو میں سے ایک بڑا حصہ دنیا کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص پر مشتمل ہے۔

ان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ‘لاک ہیڈ مارٹن’ میں کی گئی ہے، جس کی مالیت چورانوے اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر ہے۔ یہ وہی کمپنی ہے جو ایف پینتیس لڑاکا طیارے اور ہیل فائر میزائل بناتی ہے، جن کا استعمال گزشتہ دو سالوں سے زائد عرصے سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے بے دریغ کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ادارہ ‘بوئنگ’ کمپنی میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جو جدید گائیڈڈ میزائل تیار کرتی ہے اور وہ غزہ میں معصوم بچوں کے قتل اور انہیں اپاہج بنانے کا سبب بن رہے ہیں۔

اس کے علاوہ جنرل ڈائنامکس، نارتھروپ گرومین، ریتھیون، مائرسک اور تھائسن کروپ جیسی کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جو نہ صرف اسرائیل کے لیے مہلک ہتھیار بناتی ہیں بلکہ ان کی بحری ترسیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں بے گناہ افراد کے قتلِ عام میں اسرائیل کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ میں اسرائیل کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے قتل عام کا انکشاف

ورجینیا کے سرکاری ملازمین، جن میں ریٹائرڈ اساتذہ اور سماجی بہبود کے کارکن شامل ہیں، اس انکشاف پر شدید غصے اور صدمے کا شکار ہیں۔

ایک ریٹائرڈ استانی جوئے رڈنی کا کہنا ہے کہ یہ جان کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ان کی زندگی بھر کی کمائی ان بموں کی خریداری میں لگائی گئی، جنہوں نے غزہ میں اسپتالوں، اسکولوں اور گھروں کو ملیا میٹ کر دیا اور اب تک 70 ہزار سے زائد سویلینز کی جان لے لی ہے۔

اسی طرح ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے سرکاری اہلکار کیسل روزالیس نے بھی اس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ایک طرف وہ معاشرے کی بہتری کے لیے کام کریں اور دوسری طرف ان کی رقم سے دنیا کے دوسرے کونے میں انسانوں کو نقصان پہنچایا جائے۔

اس سنگین صورتحال کے باوجود، ورجینیا ریٹائرمنٹ سسٹم کے انتظامی بورڈ نے نہ صرف ان مطالبات کو مسترد کر دیا ہے بلکہ احتجاج کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت کارروائیاں بھی کی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک فائر فائٹر کو صرف اس لیے گرفتار کر لیا گیا کہ اس نے سرمایہ کاری نکالنے کے لیے ایک پٹیشن انتظامیہ کو پیش کی تھی۔

انتظامیہ نے نہ صرف ان مطالبات کو پسِ پشت ڈالا بلکہ مبینہ طور پر جنگی مجرموں کو اپنی سالانہ تقریبات میں مدعو بھی کیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان اب تک پیٹیشن پر ساڑھے چار ہزار سے زائد دستخط حاصل کر لیئے ہیں تاکہ اس موت کی تجارت کو روکا جا سکے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔