سی پیک کی تکمیل اور گوادر کا مستقبل، کیا ہم اگلے دس سال میں دبئی کو پیچھے چھوڑ دیں گے؟

گوادر اپنی قدرتی گہرائی اور تزویراتی محل وقوع کی بدولت دبئی کو پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر سی پیک منصوبے مکمل ہو گئے تو گوادر پورے خطے کا نیا تجارتی مرکز بن جائے گا۔
عالمی تجارتی نقشے پر گوادر اور دبئی (جبل علی) کی بندرگاہوں کا موازنہ انتہائی دلچسپ حقائق سامنے لاتا ہے۔ گوادر کی سب سے بڑی طاقت اس کی قدرتی گہرائی ہے، جہاں بڑے بحری جہاز کسی اضافی کوشش کے بغیر لنگر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ دبئی کی بندرگاہ کو مصنوعی طور پر کھود کر گہرا کیا گیا ہے اور اسے برقرار رکھنے پر دبئی کو بھاری سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے۔
محل وقوع کے لحاظ سے بھی گوادر کو برتری حاصل ہے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے، جس سے بحری جہازوں کا سفر، وقت اور ایندھن بچ جاتا ہے کیونکہ انہیں خلیج کے تنگ راستوں میں داخل نہیں ہونا پڑتا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی شپنگ کمپنیوں کا گوادر پورٹ پر اعتماد، چودہ ہزار میٹرک ٹن سے زائد کارگو پہنچ گیا
اگر تجارتی صلاحیت کی بات کی جائے تو دبئی اس وقت سالانہ پندرہ ملین کنٹینرز ہینڈل کر رہا ہے، لیکن گوادر کا ماسٹر پلان اسے چار سو ملین ٹن کارگو تک لے جانے کا ہے، جو اسے مستقبل میں دبئی سے کہیں بڑا بنا سکتا ہے۔
اگرچہ دبئی کے پاس چالیس سالہ تجربہ اور جدید ترین لاجسٹک نیٹ ورک موجود ہے، لیکن گوادر کے پاس وہ قدرتی صلاحیت ہے جو دبئی کے پاس نہیں۔
اگر پاکستان میں سیاسی استحکام رہے اور سی پیک کے تحت جدید انفراسٹرکچر مکمل ہو جائے، تو اگلے دس سالوں میں گوادر نہ صرف دبئی کا مقابلہ کرے گا بلکہ پورے خطے کے تجارتی محور کے طور پر ابھرے گا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












