مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے سبق، چین نے اپنے فوجی نظام کو اے آئی سے لیس کر دیا

چین کی عوامی لبریشن آرمی نے اپنی پوری فوجی طاقت کو مصنوعی ذہانت کے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیا ہے، جو مستقبل کی جنگوں کا پانسہ پلٹ سکتا ہے۔
ایران کی جنگ نے عالمی عسکری تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے، جہاں پہلی بار آپریشنز کے پورے چکر میں، انٹیلی جنس تجزیے سے لے کر ہدف کی شناخت اور حملے کی منصوبہ بندی تک، مصنوعی ذہانت کا بھرپور استعمال کیا گیا۔
اسی تجربے سے سبق حاصل کرتے ہوئے چین کی عوامی لبریشن آرمی اب مصنوعی ذہانت کے انضمام کو غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھا رہی ہے۔
چین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف جنگ لڑنے کے طریقے بدل رہی ہے بلکہ یہ عالمی تزویراتی منظر نامے کو ازسرِ نو ترتیب دینے والا ایک بنیادی انجن ہے۔
چینی فوج اس وقت مصنوعی ذہانت کو متعدد اہم شعبوں میں تعینات کر رہی ہے۔ صورتحال سے آگاہی کے لیے جدید ترین ڈرونز جیسا کہ ’’ڈبلیو زیڈ۔ایٹ‘‘ استعمال کیے جا رہے ہیں، جو حقیقی وقت میں خطرات سے آگاہ کرنے اور دشمن کے بحری بیڑوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کمانڈ اور کنٹرول کے نظام میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے جنگی مشقوں کی سیمولیشن تیار کی جا رہی ہے، جو سیکنڈوں میں دشمن کے خطرات کا جواب دینے اور مختلف پلیٹ فارمز پر ڈیٹا کو ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اپنا دفاع کرنے کے قابل ہے، اسے چین کی ضرورت نہیں، وکٹر گاؤ
رسد اور لاجسٹکس کے شعبے میں اسمارٹ گودام اور بغیر پائلٹ کی ٹرانسپورٹ نے خطرناک جنگی علاقوں میں سپلائی پہنچانے کے مسئلے کو حل کر دیا ہے۔
سب سے اہم پیش رفت اسلحہ سازی میں ہوئی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت سے لیس خودکار ہتھیار، جیسے کہ ڈی ایف۔ٹوئنٹی ون ڈی میزائل، الیکٹرانک مداخلت کے باوجود اپنا ہدف خود تلاش کر سکتے ہیں اور پرواز کے دوران ہی ہدف تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چین کی یہ ارتقائی پیش رفت جنگ کو ایک ایسے دور میں لے جا رہی ہے، جہاں فیصلے کرنے کا وقت انتہائی کم ہو جائے گا اور تمام نظام ڈیٹا پر مبنی خود مختار طریقے سے کام کریں گے۔
بیجنگ اس وقت اس عالمی تبدیلی کی قیادت کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، جس سے نہ صرف چین کی تزویراتی پوزیشن مضبوط ہوگی بلکہ یہ عالمی سلامتی کے ڈھانچے میں ایک نئے توازن کا باعث بھی بنے گا۔ چین اب ایسے طریقے بھی وضع کر رہا ہے، جن سے حریف کے ذہانت پر مبنی جنگی نظام کو ناکارہ بنایا جا سکے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












