بدھ، 29-اپریل،2026
بدھ 1447/11/12هـ (29-04-2026م)

یورپی کمیشن کا شہریوں کا سرچ ڈیٹا تیسرے فریق کو دینے کا فیصلہ اور گوگل کی مزاحمت

29 اپریل, 2026 13:02

یورپی یونین کے نئے ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ کے تحت لاکھوں یورپی شہریوں کے روزانہ کے انٹرنیٹ سرچ ڈیٹا کو تیسرے فریق کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے پر خود گوگل نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جسے ‘ڈیٹا کی چوری’ اور انسانی رازداری پر بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپی کمیشن کے مجوزہ اقدامات نے انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ (ڈی ایم اے) کے تحت گوگل کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ کروڑوں یورپیوں کے روزانہ کے سرچ ڈیٹا کو مختلف کمپنیوں اور تھرڈ پارٹیز کو فراہم کرے۔

اگرچہ برسلز کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈیٹا ‘گمنام’ ہوگا، لیکن ماہرین اور خود گوگل نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ گوگل کی سینیئر قانونی مشیر کلیئر کیلی کا کہنا ہے کہ اس طرح کا روزانہ کا ڈیٹا فیڈ فراہم کرنا سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑی تباہی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے ہیکنگ اور ڈیٹا کی چوری کے مواقع کئی گنا بڑھ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : افغان ہیکرز کا بھارتی میڈیا چینل پر حملہ، طالبان کے بھارت سے تعلقات مسترد کرنے کا پیغام نشر

حقیقت یہ ہے کہ سرچ ڈیٹا مکمل طور پر کبھی گمنام نہیں ہوتا، کیونکہ آئی پی ایڈریس، مخصوص جملے اور دلچسپی کے موضوعات مل کر ایک ‘ڈیجیٹل فنگر پرنٹ’ بناتے ہیں، جس سے صارف کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔

یورپی کمیشن کا یہ فیصلہ بظاہر کاروباری مقابلے کو فروغ دینے کے لیے ہے، لیکن اس کی قیمت کروڑوں لوگوں کی رازداری کی قربانی دے کر چکائی جا رہی ہے۔

یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے ‘ڈیجیٹل گولاگ’ یا ڈیجیٹل قید خانہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں آپ کی ہر حرکت، ہر کلک اور ہر سرچ ان کمپنیوں کے ہاتھ میں ہوگی جن کا آپ نے نام تک نہیں سنا ہوگا۔

گوگل جیسے ادارے کا رازداری کے حق میں آواز اٹھانا خود اس بات کی عکاسی ہے کہ یہ منصوبہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔