بدھ، 29-اپریل،2026
بدھ 1447/11/12هـ (29-04-2026م)

چین کے تیل کے ذخائر مستحکم، توانائی کے بحران سے نمٹنے کی نئی کامیاب مثال

29 اپریل, 2026 14:43

چین کے پاس اس وقت ایک ارب اسی کروڑ بیرل سے زائد تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو اسے کسی بھی عالمی بحران سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باوجود چین کی توانائی کی صورتحال پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے، بلکہ چین نے اس دوران اپنے خام تیل کے ذخائر میں مزید اضافہ کیا ہے۔

28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک چین کے ذخائر میں 10 لاکھ بیرل سے بھی کم کمی آئی ہے، جو کہ اس کے کل ذخائر کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس وقت چین کے پاس مجموعی طور پر ایک ارب اسی کروڑ بیرل خام تیل موجود ہے، جس میں اس کے تزویراتی ذخائر بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مارچ 2025 سے اب تک چین نے اپنے ذخائر میں انتیس فیصد اضافہ کیا ہے، جو اس کی طویل مدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے سبق، چین نے اپنے فوجی نظام کو اے آئی سے لیس کر دیا

چینی ریفائنریوں نے اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی دانشمندانہ اقدامات کیے۔ انہوں نے سپلائی کے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے ریفائنریوں کی رفتار کم کی اور اسی دوران ایران اور روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری جاری رکھی۔

رپورٹ کے مطابق اس ماہ ایران سے تیل کی درآمدات 19 لاکھ بیرل یومیہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے۔ چین نے اپنی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایندھن کی برآمدات بھی معطل کر دی ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ملک کے طور پر چین نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ یا سپلائی میں رکاوٹ کے خلاف ایک مضبوط ڈھال رکھتا ہے۔

جہاں دنیا کے دیگر ممالک تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی کی کمی سے پریشان ہیں، وہیں چین کی صنعتیں اور عام صارفین اس تزویراتی تحفظ کی بدولت پرسکون ہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔