ممتاز عالمِ دین اور سابق ڈپٹی اسپیکر مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید، عوام کا احتجاج

سابق ڈپٹی اسپیکر و جید عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کو چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں دہشت گردی کی ایک ہولناک لہر نے اس وقت پورے ملک کو سوگوار کر دیا، جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ممتاز عالمِ دین، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سرپرستِ اعلیٰ اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب پر بزدلانہ حملہ کیا۔
آج صبح تقریباً آٹھ بج کر دس منٹ پر تھانہ اتمانزئی کی حدود میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح دہشت گردوں نے مولانا کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
عینی شاہدین اور طبی ذرائع کے مطابق مولانا محمد ادریس کے سر کے پچھلے حصے میں گولی لگی، جو جان لیوا ثابت ہوئی، جبکہ ان کی حفاظت پر مامور دو پولیس کانسٹیبلز بھی اس حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ مولانا کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد چارسدہ کی تینوں تحصیلوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ مشتعل مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور فاروق اعظم چوک سمیت تمام اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
چارسدہ شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے اور تمام تجارتی مراکز بند ہیں۔ نوشہرہ کے شوبرا چوک میں بھی علما، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے منظم ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) و ضلعی پولیس پر مشتمل اعلیٰ سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے خول برآمد کر لیے گئے ہیں اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کر کے ان کا تعاقب شروع کر دیا گیا ہے۔
شہید مولانا محمد ادریس کی زندگی دینی خدمات اور سیاسی جدوجہد سے عبارت تھی۔ 1961 میں ترنگزئی میں پیدا ہونے والے مولانا نے جامعہ احسن المدارس جھگڑا پشاور سے طویل عرصہ وابستگی رکھی اور شیخ الحدیث کے طور پر ہزاروں تلامذہ کی علمی پیاس بجھائی۔
وہ سیاست میں بھی انتہائی فعال رہے، جمیعت علمائے اسلام چارسدہ کے امیر، مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کا سب سے بڑا اعزاز 2004 میں صوبائی اسمبلی سے شریعت بل پیش کرنا اور اسے پاس کروانا تھا۔
ذرائع کے مطابق مولانا کو عالمی دہشت گرد گروہ ‘داعش خراسان’ کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، خاص طور پر 2024 میں ان کے دورہ افغانستان اور افغان قیادت سے ملاقات کے بعد انہیں نشانہ بنانے کے حوالے سے الرٹ بھی جاری کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : القاعدہ کا افغان طالبان کی حمایت کا اعلان، پاکستان کا مؤقف درست ثابت
صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی گرتی ہوئی صورتحال اور مذہبی و سیاسی قیادت پر ہونے والے حالیہ حملوں نے عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پھیلا دی ہے۔
شیخ محمد ادریس کی شہادت کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس خونی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں فتنہ الخوارج تسلسل کے ساتھ دینی مدارس اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
عوامی سطح پر صوبائی حکومت کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جہاں شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست معصوم شہریوں اور جید علمائے کرام کے تحفظ میں بے بس نظر آ رہی ہے۔
ماضی قریب کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہ ایک منظم منصوبے کے تحت اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کو ختم کر رہا ہے۔
گزشتہ سال 21 جولائی 2025 کو چارسدہ کے تھانہ تنگی کی حدود میں معروف مذہبی رہنما پیر ابراہیم کو فائرنگ کر کے شہید کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 10 جولائی 2025 کو باجوڑ کے علاقے شندئی موڑ میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مولانا خان زیب کو بھی اسی بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا۔
14 مارچ 2025 کو جنوبی وزیرستان میں ایک مسجد پر خودکش حملہ کیا گیا، جس میں جمیعت علمائے اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم شدید زخمی ہوئے، جبکہ 28 فروری کو اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کی مسجد کو نشانہ بنا کر حامد الحق حقانی کو شہید کر دیا گیا۔
یہ تمام واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گرد گروہ مدارس اور مساجد کے تقدس کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہا۔
دفاعی ماہرین کا اس صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج اپنے افغان طالبان اور ہندو آقاؤں کے ایما پر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ان سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق علمائے کرام پر یہ پے درپے حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ گروہ غیر اسلامی اور انسانیت کا دشمن ہے، جس کا مقصد معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا کر علمی و مذہبی قیادت کو خاموش کرانا ہے۔
تاہم سیکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ فتنہ الخوارج کی ان مذموم کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ان سہولت کاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا جو سرحد پار بیٹھ کر پاکستان کے امن کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔
صدر مملکت آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سمیت دیگر نے اس شہادت کو ملک کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے علما ‘فتنہ الخوارج’ اور ‘فتنہ ہندوستان’ کی آنکھوں میں کھٹکتے تھے۔ شہید کی نمازِ جنازہ آج شام ساڑھے پانچ بجے ترنگزئی کے بڑے قبرستان میں ادا کی جائے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












