کیا اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں؟ امریکی قانون سازوں نے محکمہ خارجہ سے جواب مانگ لیا

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو لکھے گئے ایک خط میں 30 ارکان پارلیمنٹ نے خطے میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کی تفصیلات فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
امریکی سیاسی منظر نامے میں ایک غیر معمولی اور انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کانگریس کے 30 ڈیموکریٹ ارکان نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی ایٹمی صلاحیتوں کے حوالے سے دہائیوں سے جاری اپنی مبہم پالیسی کو ختم کرے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو لکھے گئے ایک خط میں ان ارکان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ تنازع اور جنگ کے تناظر میں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ خطے میں ایٹمی توازن کی صورتحال کیا ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے کتنا خطرات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ وہ 1960 کی دہائی سے ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے، تاہم اسرائیل نے کبھی بھی باضابطہ طور پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے، جسے ‘ایٹمی ابہام’ کی پالیسی کہا جاتا ہے۔
امریکی ارکان پارلیمنٹ نے اپنے خط میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسرائیل کے پاس یورینیم افزودگی کی صلاحیت ہے اور کیا اس کے پاس ایٹمی وار ہیڈز اور انہیں لانچ کرنے والے نظام موجود ہیں؟
یہ بھی پڑھیں : ایران کا فضائی دفاعی نظام موثر، اسرائیل ایٹمی اور تیل تنصیبات پر حملہ نہ کرسکا
خاص طور پر ڈیمونا میں واقع نیگیو ایٹمی تحقیقی مرکز کو ان تحقیقات کا مرکز بنایا گیا ہے، جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کا قلب ہے۔
خط میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا امریکہ کو اسرائیل کی جانب سے کوئی ایسی ضمانت ملی ہے کہ وہ حالیہ تنازع میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا؟
ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ایٹمی پروگرام پر خاموشی کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک جیسے ایران اور سعودی عرب کے لیے کوئی ٹھوس عدم پھیلاؤ کی پالیسی بنانا ناممکن ہو گیا ہے۔
غیر سرکاری اندازوں کے مطابق اسرائیل کے پاس 90 کے قریب ایٹمی وار ہیڈز، 750 سے 1100 کلو گرام پلوٹونیم کا ذخیرہ اور ایسی آبدوزیں موجود ہیں، جو ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیتی ہے، ایسے میں امریکی قانون سازوں کا یہ مطالبہ کہ اسرائیل کے حوالے سے بھی یہی معیار اپنایا جائے، واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں ایک نیا رخ پیدا کر سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












