بیرون ملک جانے والوں کیلئے ای پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ پر نئی وضاحت

Big good news for those who want to get a passport
اسلام آباد میں حکام نے ای پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ کے حوالے سے پھیلنے والی غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی لازمی شرط نہیں بلکہ ایک سہولت ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہیں درست نہیں اور شہریوں کو غلط معلومات سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید کہا گیا کہ یہ نظام متعارف کرایا گیا تاکہ بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کو آسانی ہو۔
سرکاری وضاحت کے مطابق آن لائن پروٹیکٹر سسٹم شہریوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ وہ گھر بیٹھے اپنا عمل مکمل کرسکیں۔
یہ سہولت خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہے جو بیرون ملک سفر سے قبل دفاتر کے چکر لگانے میں مشکلات محسوس کرتے تھے۔ اس نظام سے وقت کی بچت اور عمل میں شفافیت پیدا ہوئی ہے۔
ماضی میں بیرون ملک جانے والے افراد کو پروٹیکٹر آفس جا کر مہر لگوانا لازمی ہوتا تھا جس میں وقت اور اخراجات دونوں شامل ہوتے تھے۔
نظام میں تبدیلی سے پہلے شہریوں کو طویل قطاروں اور دستاویزات کی تصدیق کے مراحل سے گزرنا پڑتا تھا جس سے شکایات میں اضافہ ہوتا تھا۔ ڈیجیٹل سہولت نے اس عمل کو نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔
ماہرین امورِ سفریات کے مطابق آن لائن سرٹیفکیٹ کا مقصد صرف سہولت فراہم کرنا ہے اور اس سے قانونی تقاضے ختم نہیں ہوتے بلکہ نظام مزید شفاف ہوتا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھی کئی ممالک اسی طرح کے ڈیجیٹل پروٹیکشن سسٹم اپنا چکے ہیں جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔
کچھ شہریوں نے ابتدا میں خدشہ ظاہر کیا کہ آن لائن نظام پیچیدہ ہو سکتا ہے تاہم حکام کی وضاحت کے بعد اعتماد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور لوگ اب اسے آسان حل قرار دے رہے ہیں۔
شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو ابتدا میں اس نظام کے بارے میں الجھن کا سامنا رہا تاہم بعد میں صورتحال واضح ہو گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر آن لائن نظام مزید بہتر ہوا تو مستقبل میں زیادہ تر پروٹیکٹر عمل ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اگر یہ نظام مکمل طور پر کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں بیرون ملک جانے کے تمام متعلقہ دستاویزاتی مراحل بھی آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









