بشریٰ بی بی ملاقات کیس کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی کی فیملی اور معالج سے ملاقات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے تفصیلی دلائل طلب کر لیے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ مانیکا کی درخواست پر سماعت کی، جس میں ان کی فیملی اور ذاتی معالج سے ملاقات اور ضروری سامان کی فراہمی کی استدعا کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نوید ملک اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیئے۔
یہ بھی پڑھیں : 190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں نمٹا دی گئیں
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیئے کہ عدالت اس کیس کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتی بلکہ جیل ملاقات کے طریقہ کار کو مکمل طور پر سمجھ کر میرٹ پر ایک ہی بار فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے فریقین سے تفصیلی دلائل طلب کر لیے ہیں۔
اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کے بعد باہر آ کر سیاسی گفتگو کی جاتی ہے، جو جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں بشریٰ بی بی کی بہن مریم ریاض وٹو کے ٹویٹس کو بھی بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ملاقاتوں کے بعد سیاسی بیانیے کو سوشل میڈیا پر فروغ دیا جاتا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریٹنڈنٹ جیل نے ان وجوہات کی بنا پر ملاقات کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ تاہم عدالت نے ہدایت کی کہ اس دوران جب ممکن ہو بیٹی کی ملاقات کرائی جائے، کیس کی تفصیلی سماعت جلد دوبارہ ہوگی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











