پاکستان کے خلاف عالمی میڈیا کا منظم پروپیگنڈا، نیتن یاہو سے لنڈسے گراہم تک ایک ہی بیانیہ

پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں اور ایران امریکہ بحران میں بطور ثالث ابھرنے سے بوکھلا کر دشمن قوتوں نے ملک کے خلاف ایک مربوط ہائبرڈ وار کا آغاز کر دیا ہے۔
موجودہ حالات کا گہرا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان کے خلاف حالیہ واقعات کا کوئی بھی حصہ تنہائی میں نہیں ہو رہا، بلکہ ان تمام واقعات کے پیچھے ایک باقاعدہ ربط اور مربوط منصوبہ بندی موجود ہے۔
اس مہم کا آغاز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے انٹرویو سے ہوا، جس میں انہوں نے براہ راست پاکستان کو نشانہ بنایا۔ اس کے فوراً بعد امریکی ادارے سی بی ایس، برطانوی بی بی سی اور الجزیرہ جیسے عالمی اداروں نے ایک ہی لائن اختیار کرتے ہوئے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا منفی بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر بیانیہ سازی کی ایک منظم جنگ ہے، جس کے ماسٹر مائنڈ اب خود سامنے آ چکے ہیں۔
پاکستان کے اندرونی خلفشار کو ہوا دینے کے لیے ماسٹرز آف کیوس (افراتفری) نے اپنے مقامی مہروں کا استعمال کیا، لیکن جب انہیں وہاں سے کامیابی نہ ملی، تو انہوں نے برسرِ زمین دہشت گردی کی لہر میں اضافہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں نئی عسکری صف بندی اور پاکستان کا کلیدی کردار
سرائے نورنگ میں دھماکہ، بنوں میں پولیس پر حملہ اور مولانا ادریس کی شہادت، یہ تمام واقعات اسی بڑی تصویر کا حصہ ہیں۔
ان کا اصل مقصد جانی نقصان پہنچانے سے زیادہ ایک نفسیاتی بیانیہ ترتیب دینا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بن چکا ہے اور یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا۔
خاص طور پر غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلاء پر چلائی گئی سوشل میڈیا مہم، جس میں بھارتی اور پاکستان مخالف افغان اکاؤنٹس پیش پیش تھے، اس سازش کو مکمل طور پر بے نقاب کرتی ہے۔
اس بیانیے کی جنگ کا کُل خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایران امریکہ جنگ میں جو سفارتی پذیرائی ملی اور جس طرح پاکستان ایک عالمی ثالث کے طور پر ابھرا، اس نے دشمن کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیا۔
بوکھلاہٹ کا شکار یہ ماسٹر پراکسیز اب پاکستان کو ہر صورت نیچا دکھانا چاہتی ہیں۔ اٹک میں خودکش بمبار کی ناکامی اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائیاں ان کے ناپاک عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
یہ تمام ہتھکنڈے ایک زخمی سانپ کی مانند ہیں، جو ڈسنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور عسکری پوزیشن اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور یہ زہر خود ان دشمنوں کی جان لینے کا سبب بنے گا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











