آئی ایم ایف کے پاکستان سے تکنیکی مذاکرات، نئے بجٹ کیلئے ڈیٹا شیئرنگ کا آغاز

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں ٹیکس اہداف اور معاشی اصلاحات پر سخت شرائط زیرِ بحث ہیں۔
حکومتِ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد کے درمیان نئے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں تکنیکی مذاکرات کا اہم مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق، حکام نے آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ معاشی ڈیٹا کا تبادلہ شروع کر دیا ہے، جس کی روشنی میں نئے مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اس بجٹ سازی کے عمل میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو کلیدی ذمہ داری سونپی گئی ہے؛ وہ ایک خصوصی کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں جو ٹیکس تجاویز اور معاشی سفارشات کو حتمی شکل دے کر عالمی ادارے کے سامنے پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے چھ سو تراسی ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خسارہ کم کرنے کے لیے سخت مالی ڈسپلن یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
نئے بجٹ میں چار سو ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ عالمی ادارے نے خاص طور پر زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کا عمل تیز کرنے پر زور دیا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے مالی سال میں چاروں صوبے زرعی آمدن پر مکمل ٹیکس وصولی کو یقینی بنائیں گے۔
اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کیا جائے۔
حکومت نے موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر ٹیکس ریونیو سمیت سالانہ معاشی اہداف پر دوبارہ نظرثانی کی تجویز بھی دی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












