مغربی ایشیا میں امریکی دفاعی نظریہ ناکام، ایران نے فوجی اڈوں کا سیکیورٹی حصار توڑ دیا

ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی دفاعی نظریے کو ناکام بناتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے حفاظتی حصار کو مکمل طور پر پاش پاش کر دیا ہے۔
ایران کی جانب سے مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کے حفاظتی نظام کو ناکارہ بنائے جانے کے بعد واشنگٹن کا علاقائی تسلط شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں نے امریکی اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، جس میں سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق 217 تنصیبات اور 11 اہم فوجی ساز و سامان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران نے رواں سال ایسی جدید ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے، جس نے امریکہ کے 2001 سے جاری دفاعی نظریات کو مکمل طور پر فرسودہ کر دیا ہے۔ امریکی فضائی دفاعی نظام جیسے تھاڈ اور پیٹریاٹ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے اپنی زیادہ تر فوجی صلاحیتیں بحال کر لیں، امریکی انٹیلی جنس
ایران نے ان حملوں میں سیچوریشن اٹیک کی حکمت عملی اپنائی، جس میں الیکٹرانک وارفیئر، ڈرونز، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائلوں کا بیک وقت استعمال کیا گیا۔
اس حملے نے خطے بھر میں امریکی ریڈار نیٹ ورکس اور کمانڈ سینٹرز کو تباہ کر دیا، جس سے امریکیوں کی خطرے کو بھانپنے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔
یہاں تک کہ قطر میں موجود اربوں ڈالر کی مالیت کا اے این ایف پی ایس ایک سو بتیس ریڈار بھی تباہ کر دیا گیا، جو خطے میں اپنی نوعیت کا واحد ریڈار تھا۔
صورتحال یہ ہوئی کہ امریکی فوجی اپنے اڈوں پر محفوظ نہیں رہے اور انہیں ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا، لیکن ایرانی ڈرونز نے وہاں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اس پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کا خطے میں فوجی انفراسٹرکچر اب مکمل طور پر غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












