ایران نے اپنی زیادہ تر فوجی صلاحیتیں بحال کر لیں، امریکی انٹیلی جنس

امریکی انٹیلی جنس کی خفیہ رپورٹس نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں تباہ ہو چکی ہیں، انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے اپنا زیادہ تر انفراسٹرکچر بحال کر لیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے خفیہ جائزوں میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے اپنی میزائل سازی کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیتوں کا بڑا حصہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
یہ رپورٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان عوامی بیانات کے بالکل برعکس ہے، جن میں بار بار یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت کو حالیہ حملوں میں مفلوج کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چین کا پاکستان سے ایران امریکہ کے درمیان ثالثی تیز کرنے کا مطالبہ
سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کردہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز کے قریب اپنے میزائل لانچنگ سائٹس، زیر زمین تنصیبات اور موبائل لانچ سسٹم تک رسائی دوبارہ حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 33 میزائل سائٹس میں سے 30 اب مکمل طور پر فعال ہیں اور صرف 3 مقامات ایسے ہیں، جہاں تک رسائی ابھی ممکن نہیں ہو سکی۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کے پاس اب بھی اپنے جنگ سے پہلے کے میزائل ذخیرے کا 70 فیصد حصہ موجود ہے، جس میں وہ بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں، جو پورے خطے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یہ نتائج امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے ان دعوؤں کو براہ راست چیلنج کرتے ہیں کہ ایرانی انفراسٹرکچر کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میدان جنگ اور سفارتی محاذ دونوں پر اپنا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












