جمعرات، 14-مئی،2026
بدھ 1447/11/26هـ (13-05-2026م)

J20 کا نیا انجن اور جدید ڈیزائن، چین کی امریکی فضائی طاقت کو کھلا چیلنج

13 مئی, 2026 10:08

چین نے J20 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی پیداوار میں انقلابی اضافہ کرنے کے لیے مکمل طور پر خودکار ڈارک فیکٹری فعال کر دی ہے، جس سے پیداواری صلاحیت دوگنا ہو گئی ہے۔

چین نے اپنی فضائی قوت کو تیزی سے بڑھانے کے لیے جدید ترین اسٹیلتھ طیاروں J20 کے پرزہ جات کی تیاری میں مصنوعی ذہانت اور خودکار مشینوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

ایک ایسی فیکٹری قائم کی گئی ہے، جہاں مشینیں چوبیس گھنٹے بغیر انسانی مداخلت کے کام کرتی ہیں اور اس قدر کم روشنی میں بھی کام جاری رہتا ہے کہ اسے ڈارک فیکٹری کا نام دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چین کا نیا اینٹی ڈرون دفاعی نظام متعارف، مغرب میں تشویش

اس پیش رفت کے نتیجے میں اسٹیلتھ طیاروں کی تیاری کی رفتار پہلے کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ بیجنگ اب امریکی فضائیہ کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ رہا ہے، جہاں 2024 کے وسط تک چین کے پاس تقریباً 300 جے ٹوئنٹی طیارے موجود ہیں اور 2030 تک یہ تعداد 1000 تک پہنچنے کا امکان ہے، جو بحر الکاہل کے خطے میں امریکی ایف پینتیس طیاروں کے برابر ہو جائے گی۔

اس فیکٹری کی سب سے بڑی کامیابی مختلف مشینوں کے درمیان ایک ہی زبان یا پروٹوکول کے ذریعے رابطے کا قیام ہے، جس سے انسانی کردار 80 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ J20 طیاروں کو اب نئے چینی ساختہ انجن ڈبلیو ایس پندرہ سے لیس کیا جا رہا ہے، جو طیارے کو بغیر آفٹر برنرز کے سپرکروز کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

چین نے 2024 میں اپنے نئے طیاروں جے چھتیس اور جے پچاس کے تجربات بھی کیے ہیں، جو چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کی دوڑ میں چین کو امریکہ پر برتری دلا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بھی ملک پہلے چھٹی نسل کے طیارے میدان میں لائے گا، وہی مستقبل کی فضائی جنگ کا فاتح ہوگا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔