30 لاکھ افراد بھوک کا شکار، افغانستان معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی بھوک اور معاشی تباہی پر ہنگامی وارننگ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق طالبان حکومت کی ناقص پالیسیاں ملک کو ناکام ریاست بنا رہی ہیں۔
افغانستان اس وقت معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور طالبان رجیم کی ناقص اقتصادی پالیسیوں نے ملک کو ایک ناکام ریاست کی تصویر بنا دیا ہے۔
افغان خبر رساں ایجنسیوں آریانا نیوز اور طلوع نیوز کے مطابق اقوام متحدہ نے ایک تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں غربت، بھوک اور افلاس نے انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جن میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ مفلوج نظامِ حکومت اور معیشت کے خاتمے نے افغان عوام کو ایک بڑے انسانی المیے سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران امریکہ ثالثی سبوتاژ کرنے کیلئے پاکستان مخالف بھارتی و افغان پروپیگنڈا بے نقاب
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے مزید انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں غذائی قلت کا شکار خواتین اور بچوں کے علاج کے لیے ضروری مخصوص خوراک کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے اموات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم نے ملکی وسائل کو عوامی خوشحالی اور معاشی بہتری پر خرچ کرنے کے بجائے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور غیر تعمیری کاموں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
طالبان کی اس نااہلی اور ترجیحات کے غلط تعین کا خمیازہ عام افغان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جو اس وقت بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور بھوک جیسے کئی بحرانوں کی زد میں ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












