سعودی عرب کا ایران امریکہ بحران کے سفارتی حل پر زور، پاکستانی ثالثی کی حمایت

سعودی عرب نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری بحران کو ختم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کے استعمال پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر مملکت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
میڈرڈ میں اپنے ہسپانوی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 28 فروری سے ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے اس بحران کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری میں ہی مضمر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی بھی مکمل تائید کرتا ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب اور کویت کے انکار نے امریکہ کو پراجیکٹ فریڈم معطل کرنے پر مجبور کیا، رپورٹ
سعودی وزیر خارجہ نے عالمی معیشت کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہاں جہاز رانی کی صورتحال کو 28 فروری سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت عالمی تجارت کی بنیاد ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
ریاض نے جنگ کے آغاز سے پہلے ہی واشنگٹن اور تہران کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے تھے تاکہ کشیدگی کو پھیلنے سے روکا جا سکے، اور اب بھی مملکت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کی سرزمین اور علاقائی پانیوں پر ہونے والے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے برادر خلیجی ممالک کے ساتھ سعودی عرب کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی سعودی عرب بھرپور حمایت کرے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












