بجٹ 27-2026؛ بڑی خوشخبری آگئی

Budget 2026-27 Brings Big Relief
پاکستان کے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے قبل ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات میں بیشتر نکات پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے بعد معاشی صورتحال میں بہتری کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
وفاقی حکومت اگلے ماہ جون میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرے گی۔ بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں وزارت خزانہ کی جانب سے آئی ایم ایف اور مختلف معاشی ماہرین سے مسلسل مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کی بعض معاشی شرائط اور اہداف کو ملکی معیشت کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے انہیں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ بجٹ مذاکرات 20 مئی تک مکمل کر لیے جائیں گے۔
اطلاعات کے مطابق نئے مالی سال کے لیے حقیقی جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد رکھنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے ملک کی ترقی کی رفتار بہتر ہوگی۔
دوسری جانب آئندہ مالی سال میں مہنگائی کی اوسط شرح 8.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ابتدائی مہینوں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے دو فیصد پرائمری سرپلس کی شرط بھی رکھی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو اخراجات اور آمدن میں توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک بھی آئندہ مالی سال میں سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھ سکتا ہے تاکہ افراط زر کو قابو میں رکھا جا سکے۔ شرح سود سے متعلق فیصلے بھی معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 4 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے، جو جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم ہوگا۔ اس کے علاوہ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کے حوالے سے بھی مثبت توقعات سامنے آئی ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ نئے مالی سال میں ترسیلات زر 42 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے اہم سہارا ثابت ہوں گی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











