منگل، 19-مئی،2026
منگل 1447/12/02هـ (19-05-2026م)

انڈونیشیا، چین اور امریکہ کے درمیان عالمی اثر و رسوخ کا بڑا میدانِ جنگ بن گیا

19 مئی, 2026 14:22

انڈونیشیا اپنی 280 ملین سے زائد آبادی، معاشی حجم اور تزویراتی لوکیشن کے باعث چین اور امریکہ کے درمیان اثر و رسوخ بڑھانے کا اصلی میدانِ جنگ بن چکا ہے، جہاں دونوں سپر پاورز الگ الگ معاشی اور سفارتی ماڈلز کے ساتھ آمنے سامنے ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا ملک انڈونیشیا اب صرف ایک عام علاقائی مارکیٹ نہیں رہا بلکہ یہ دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جس کی آبادی 28 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

یہ ملک جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم یعنی آسیان کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ساتھ ساتھ بحرِ ہند اور بحرِ الکاہل کو ملانے والا ایک انتہائی اہم اور اسٹرٹیجک جزائر کا مجموعہ بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ چین اور امریکہ دونوں ہی اس اہم ملک پر اپنا سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے سخت مقابلے میں مصروف ہیں لیکن ان دونوں سپر پاورز کے پیش کردہ ماڈل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

چین کے لیے انڈونیشیا بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ڈیجیٹل ترقی میں ایک قدرتی شراکت دار ہے اور بیجنگ پچھلی ایک دہائی سے زائد عرصے سے جکارتہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر چلا آ رہا ہے۔

چینی سرمایہ کاری انڈونیشیا میں نکل کی صنعت کے عروج کا مرکزی سبب بنی ہے، جس کی مدد سے یہ ملک نکل دھات کا دنیا کا سب سے بڑا پروڈیوسر اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی بیٹری چین کا ایک اہم ترین مرکز بن چکا ہے۔

چین کے تعاون سے بننے والی جکارتہ سے بانڈونگ ہائی اسپیڈ ریلوے، جس کا آغاز 2023 میں ہوا تھا، جنوب مشرقی ایشیا کی پہلی تیز رفتار ریل لائن بن چکی ہے اور اخراجات اور قرضوں کے خطرات سے متعلق مغربی دنیا کی شدید تنقید کے باوجود اس ریل منصوبے نے ایک ایسا بڑا اور واضح بنیادی ڈھانچہ کھڑا کر کے دکھایا ہے، جو واشنگٹن ترقی پذیر دنیا کو دینے میں عام طور پر ناکام رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : چین کا نیا کوانٹم کمپیوٹر جیوژانگ 4.0 تیار، ٹیکنالوجی کی دوڑ میں امریکہ کو بدترین شکست

اس معاشی جنگ کا ڈیجیٹل رخ بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ گوگل، ٹیماسیک اور بین کی رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کی ڈیجیٹل معیشت 2024 میں تقریباً 90 ارب ڈالر کے مجموعی تجارتی حجم تک پہنچ چکی ہے جو کہ پورے جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے بڑی ہے، لہٰذا جو بھی سپر پاور اس ملک کے کلاؤڈ سسٹمز، ادائیگیوں کے نظام، آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت اور ای کامرس کی تعمیر میں مدد کرے گی، وہی اس پورے خطے کے ڈیجیٹل مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

واشنگٹن اس صورتحال کو اچھی طرح سمجھتا ہے لیکن اس کا اپنا طریقہ کار خالص معاشی ہونے کے بجائے روز بہ روز جغرافیائی اور سیاسی رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

امریکہ اور انڈونیشیا کے نئے باہمی تجارتی معاہدے نے انڈونیشیائی سامان پر امریکی ٹیرف کو 32 فیصد سے گھٹا کر 19 فیصد تو کر دیا ہے، لیکن اس ڈیل میں کچھ ایسی سخت شرائط بھی شامل کی گئی ہیں، جنہیں واضح طور پر چینی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے تحت اب انڈونیشیا سے یہ امید رکھی گئی ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ حساس ڈیجیٹل تجارتی انتظامات کرنے سے پہلے واشنگٹن کے ساتھ باقاعدہ ہم آہنگی اور مشاورت کرے گا، جبکہ یہ معاہدہ جکارتہ کو اس بات پر بھی مجبور کرتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے جواز کے تحت تیسرے ممالک پر لگائی جانے والی مستقبل کی امریکی تجارتی پابندیوں کی بھی تائید کرے۔

اس کے ساتھ ہی واشنگٹن انڈونیشیا کے اہم معدنیات اور نکل پروسیسنگ کے شعبوں پر بھی دباؤ بڑھا رہا ہے، جہاں چینی کمپنیوں نے مورووالی اور ویدا بے جیسے صنعتی پارکوں میں پہلے ہی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

ان تمام حقائق کے بعد دونوں کا فرق بالکل صاف ہے کہ چین فیکٹریاں، ریلوے، پروسیسنگ پلانٹس اور بڑی تجارت لے کر آتا ہے جبکہ امریکہ صرف اسٹرٹیجک زبان، سیاسی بیانات اور سپلائی چین کا دباؤ لے کر آتا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔