ایف بی آر کی ہدایت مسترد، ٹیکسٹائل ملز مالکان کا اپنے خرچے پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے سے انکار

ٹیکسٹائل ملز میں نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے معاملے پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔
ایف بی آر نے ملک بھر کے تمام ٹیکسٹائل ملز مالکان کو حکم دیا ہے کہ وہ فیکٹریوں کی مانیٹرنگ کے لیے اپنے ذاتی خرچے پر کیمرے لگائیں۔ تاہم ٹیکسٹائل ملز مالکان نے ایف بی آر کی اس ہدایت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد کا کہنا ہے کہ اگر فیکٹریوں کی نگرانی ایف بی آر نے خود کرنی ہے، تو پھر کیمرے بھی وہ اپنے ہی خرچے پر لگائے، ملز مالکان یہ بوجھ بلکل برداشت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : آئل کمپنیوں کا نئے پرائسنگ فارمولے پر تحفظات کا اظہار، 104 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ
چیئرمین اپٹما کامران ارشد کا کہنا تھا کہ ملک بھر کی 380 ٹیکسٹائل ملز میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے لیے ایف بی آر فی فیکٹری 30 لاکھ روپے مانگ رہا ہے۔ اگر ان 380 فیکٹریوں کا حساب لگایا جائے، تو یہ کل رقم ایک ارب 14 کروڑ روپے بنتی ہے، جو کہ انڈسٹری پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر صرف یہاں تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کیمروں کی دیکھ بھال اور مینٹیننس کے نام پر ہر مل سے سالانہ 20 لاکھ روپے کا الگ مطالبہ کر رہا ہے۔ اس طرح 380 ٹیکسٹائل ملز کو ایف بی آر کو سالانہ 76 کروڑ روپے دینے پڑیں گے، جو کہ ہم کسی صورت نہیں دے سکتے۔
کامران ارشد نے حکومت سے سوال پوچھا کہ کیا سیف سٹی کے کیمروں کے اخراجات عام شہریوں نے اپنی جیب سے برداشت کیے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ شہری صرف سیف سٹی کیمروں سے ہونے والے چالان کا جرمانہ جمع کراتے ہیں، کیمروں کا خرچہ نہیں اٹھاتے۔ اس لیے اگر نگرانی کرنی ہے تو ایف بی آر اپنے بجٹ سے کیمرے لگائے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










