پیر، 22-جون،2026
پیر 1448/01/07هـ (22-06-2026م)

اسلحہ لائسنس کے اجراء اور تجدید کی فیسوں میں 100 فیصد سے زائد کا اضافہ

22 جون, 2026 15:55

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں اسلحہ لائسنس کے اجراء اور تجدید کی فیسوں میں اضافے کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت کی جانب سے فیسوں میں اضافہ قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں بنتی۔

عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے 34 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی پالیسی سے متعلق فیصلوں میں عدالت صرف اسی وقت مداخلت کر سکتی ہے جب کسی قانون کی واضح خلاف ورزی ہو یا شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہو رہے ہوں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہو سکی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو آرمز ایکٹ اور آرمز رولز کے تحت اسلحہ لائسنس کے نظام کو چلانے اور فیسوں کا تعین کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔ حکومت ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً فیسوں میں اضافہ یا کمی کر سکتی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ اسلحہ لائسنس کا اجراء اور اس کی تجدید صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ یہ عوامی تحفظ، سکیورٹی اور امن و امان سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کو اس پورے نظام کی نگرانی اور اس سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

یہ درخواستیں خیبرپختونخوا رائفل ایسوسی ایشن اور دیگر شہریوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ مختلف اقسام کے اسلحہ لائسنس کی فیسوں میں 100 فیصد سے زیادہ اضافہ غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہے۔ حکومت اس قانون کو عوامی تحفظ کے بجائے ریونیو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

تاہم عدالت نے حکومتی مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے تمام درخواستیں خارج کر دیں۔ اس فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا میں اسلحہ لائسنس کے اجراء اور تجدید کے لیے مقرر کی گئی نئی فیسیں بدستور نافذ رہیں گی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔