امریکی وزیر خارجہ کا خلیجی ممالک کا دورہ، اسرائیل کو نظرانداز کر دیا

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ مشرق وسطیٰ میں روایتی حلیف اسرائیل کا دورہ نہیں کیا، جسے ماہرین ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں نیتن یاہو کے لیے بڑا جھٹکا قرار دے رہے ہیں۔
عام طور پر اسرائیل کے کٹر حامی سمجھے جانے والے مارکو روبیو نے خلیج فارس کی 3 عرب ریاستوں کا اہم دورہ کیا، لیکن اس میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں کی وجہ سے اسرائیلی قیادت سے شدید ناراض ہیں، کیونکہ ان کارروائیوں سے ایران کے ساتھ ہونے والا نیا امن معاہدہ خطرے میں پڑ رہا ہے۔
اسرائیل کے فوجی انٹیلی جنس کے سابق اعلیٰ اہلکار ڈینی سیٹرینووچ نے ایک عالمی میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ روبیو کا اسرائیل نہ آنا واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا واضح ثبوت ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب اسرائیل کو مذاکرات کا حصہ نہیں سمجھتا بلکہ خلیجی ممالک کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نیویارک الیکشن میں فلسطین نواز امیدواروں نے اسرائیل نواز لابی کو ہرا دیا
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس معاملے پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ کے اس دورے کا مقصد صرف خلیجی اتحادیوں کا شکریہ ادا کرنا اور کویت میں امریکی سفارت خانے کے کام کا دوبارہ آغاز کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مارکو روبیو پہلے کئی بار اسرائیل جا چکے ہیں اور وہ اسرائیلی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
تاہم، نیتن یاہو کے حامی میڈیا نے اس امریکی حکمت عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، کیونکہ اس ممکنہ معاہدے سے تہران پر لگی معاشی پابندیاں نرم ہو جائیں گی، جبکہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام جیسے اہم مسائل پر بات چیت مؤخر ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب صرف اپنے مفادات دیکھ رہی ہے اور اس نے نیتن یاہو کو مذاکرات کے کھیل سے بلکل باہر کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












