ایران امریکہ اور 2026 سے متعلق بابا وانگا کی حیرت انگیز پیش گوئیاں سوشل میڈیا پر وائرل

Baba Vanga's amazing predictions regarding Iran, America
بلغاریہ کی مشہور نابینا خاتون بابا وانگا کی پرانی پیش گوئیاں ایک بار پھر دنیا بھر کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہیں۔
لوگ ان باتوں کو لے کر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان سے منسوب ایک بڑی پیش گوئی کے مطابق سال 2026 میں دنیا کے مشرقی حصے میں ایک بہت بڑی جنگ یا تصادم شروع ہو سکتا ہے۔ اس لڑائی میں چین، روس، ایران اور امریکا جیسے طاقتور ترین ممالک کے شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ بابا وانگا نے بہت پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ 2026 میں ایک علاقائی تنازع کھڑا ہوگا۔ یہ جھگڑا دیکھتے ہی دیکھتے اتنا بڑھ جائے گا کہ تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ان باتوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس بڑی جنگ کے نتیجے میں مغربی ممالک کو بہت زیادہ مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس خطرے نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔
جہاں ایک طرف دنیا کے خاتمے کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں ان پیش گوئیوں میں انسانی بقا کے بارے میں کچھ الگ باتیں بھی ملتی ہیں۔ بابا وانگا نے کہا تھا کہ یہ ممکنہ عالمی جنگ انسانوں کو پوری طرح ختم نہیں کرے گی۔ ان سے منسوب کچھ دوسری تحریروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انسانوں کے زوال کی شروعات 2025 سے ہی ہو جائے گی، لیکن یہ دنیا پوری طرح سال 5079 کے آس پاس جا کر ختم ہوگی۔
اگر ماضی کی بات کی جائے تو بابا وانگا نے پہلے بھی کئی بڑی قدرتی آفتوں، یورپ کے حالات اور دنیا بھر کے معاشی بحرانوں کے بارے میں اشارے دیے تھے۔ ان باتوں پر ہمیشہ سے ہی بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم، سائنسدانوں اور ماہرین نے کبھی بھی ان پیش گوئیوں کی تصدیق نہیں کی کیونکہ ان کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔
ان پیش گوئیوں میں کچھ بہت ہی عجیب باتیں بھی شامل ہیں۔ جیسے کہ ایک دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں انسانوں کا رابطہ خلائی مخلوق یعنی دوسرے سیاروں کے جانداروں سے ہو سکتا ہے۔ اس انوکھے رابطے کے بعد دنیا بھر میں ایک عجیب سا خوف اور پریشانی کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔
بابا وانگا کے ساتھ ساتھ فرانس کے مشہور نجومی نوسترادامس کی پرانی باتیں بھی ان دنوں خوب زیرِ بحث ہیں۔ نوسترادامس کی لکھی ہوئی مبہم شاعری کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس سال کسی بہت بڑی سیاسی شخصیت کا قتل ہو سکتا ہے یا کسی ملک میں حکومت کے خلاف بغاوت ہو سکتی ہے، جو ایک لمبی جنگ کی وجہ بنے گی۔
طبی اور سائنسی ماہرین کا اس پورے معاملے پر کہنا ہے کہ ان دونوں شخصیات کی زیادہ تر باتیں بہت گول مول اور مبہم ہوتی ہیں۔ ان کی کوئی بھی سائنسی حقیقت نہیں ہوتی، اور لوگ ہر دور میں اپنے حالات کے حساب سے ان کے الگ الگ مطلب نکال لیتے ہیں۔ اس لیے ان باتوں کو سچ نہیں ماننا چاہیے، لیکن آج کل دنیا میں جو سیاسی تناؤ چل رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ ان پر دوبارہ یقین کرنے لگے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











