منگل، 30-جون،2026
منگل 1448/01/15هـ (30-06-2026م)

سندھ طاس معاہدہ 24 کروڑ عوام کی شہہ رگ ہے، ہر صورت تحفظ کریں گے، عطا اللہ تارڑ

30 جون, 2026 11:54

عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی شہہ رگ ہے، بھارت کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوششوں کے باوجود پاکستان ہر صورت اس کے تقدس کا تحفظ کرے گا۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدہ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آج ہم محض ایک معاہدے پر نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی شہہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب ہماری اصل شناخت ہے اور ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں، جہاں ہزاروں برس سے دریائے سندھ کا نظام دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی آبیاری کرتا آیا ہے، اس لیے پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ زراعت ہماری قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کے لیے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کے لیے پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ بلکل نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پانی پاکستان کی بقا اور ریڈ لائن ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں ہو سکتا، وفاقی وزرا

عطا اللہ تارڑ نے تاریخی پس منظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 6 دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا اور 1960 کا یہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے پانی پر پورا حق حاصل ہے۔ بھارت نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، لیکن پاکستان ہر صورت اس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اگر پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو قومی قیادت پاکستان کے عوام کا حق بحال کرنے اور اس کا مؤثر جواب دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔