ای چالان سے متعلق شہریوں کو ریلیف ملنے کا امکان

Great news for citizens troubled by e-challans
ای چالان کے باعث بڑھتے جرمانوں سے پریشان شہریوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سندھ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ ٹریفک قوانین سے متعلق بعض جرمانوں پر نظرثانی کی جا سکتی ہے، جس سے ہزاروں شہریوں کو ریلیف ملنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ خاص طور پر سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ نہ پہننے پر جاری ہونے والے ای چالان کے حوالے سے نئی تجویز زیر غور ہے۔
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ ای چالان نظام عوام کی حفاظت اور ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔ ابتدا میں اس نظام پر کافی تنقید ہوئی، تاہم حکومت اس میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ سیٹ بیلٹ نہ باندھنے اور ہیلمٹ استعمال نہ کرنے پر جاری کیے جانے والے ای چالان ختم یا ان پر نظرثانی کی جائے۔ اگر اس تجویز کی منظوری مل جاتی ہے تو شہریوں کو ان جرمانوں کے معاملے میں بڑی سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ ٹریفک نظام میں ابھی کئی تکنیکی مسائل موجود ہیں۔ تمام سرکاری اور متعلقہ گاڑیوں میں ڈیش کیم نصب نہیں کیے جا سکے، جبکہ کراچی میں چلنے والے واٹر ٹینکرز میں بھی سو فیصد ٹریکرز کی تنصیب مکمل نہیں ہو سکی۔ ایسے حالات میں بعض اوقات شہریوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھے گی، کیونکہ اس کا مقصد شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایسے قوانین اور جرمانوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جن پر عوام کی جانب سے زیادہ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پبلک ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد نے ہڑتال بھی کی، لیکن حکومت نے دباؤ قبول کرنے کے بجائے قانون پر عمل درآمد کو ترجیح دی۔ اوور اسپیڈنگ جیسے سنگین ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی رقم دو لاکھ سے ڈھائی لاکھ روپے تک مقرر کی جا چکی ہے تاکہ خطرناک ڈرائیونگ کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ سخت ٹریفک اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال ٹریفک حادثات اور ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ سڑکوں پر محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نے کراچی میں پانی کی قلت کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف کے فور منصوبہ شہر کی تمام آبی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید منصوبوں اور بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











