جمعہ، 3-جولائی،2026
جمعہ 1448/01/18هـ (03-07-2026م)

اسلام آباد ہائیکورٹ کا زمینوں کی خریدو فروخت، رجسٹریشن اور انتقال سے متعلق بڑا فیصلہ

03 جولائی, 2026 11:10

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شاہ اللہ دتہ، سرائے خربوزہ اور سنگجانی میں زمین کی خرید و فروخت اور انتقال پر عائد انتظامی پابندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہریوں کے حق میں اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس محمد آصف نے شہری فضل عباس کی درخواست پر جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل کاشف علی ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ جائیداد کی رجسٹریشن اور انتقال کے تمام معاملات صرف قانون اور مقررہ ضابطوں کے مطابق انجام دیے جائیں۔ انتظامی احکامات کے ذریعے شہریوں کے آئینی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن اس کی آڑ میں پورے علاقے کے تمام شہریوں کو جائیداد کی خرید و فروخت سے روکنا درست نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سی ڈی اے کے ایک خط کی بنیاد پر لگائی گئی عمومی پابندی کی کوئی قانونی حیثیت موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سب رجسٹرار اور ریونیو حکام کو دی گئی زبانی ہدایات کو بھی قانون کے خلاف قرار دیا۔ انتظامیہ نے پہلے سے موجود عدالتی حکم کی اپنی تشریح کر لی، جبکہ اس حکم کا مقصد صرف غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی تعمیر اور ان سے متعلق لین دین روکنا تھا، نہ کہ پورے علاقے کی تمام جائیدادوں کو منجمد کرنا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انتظامی ادارے عدالتی احکامات میں اپنی مرضی سے تبدیلی نہیں کر سکتے۔ ایگزیکٹو اداروں پر لازم ہے کہ وہ عدالت کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کریں۔ سی ڈی اے آرڈیننس 1960 اور اسلام آباد زوننگ ریگولیشنز 1992 کے تحت ڈپٹی کمشنر کو جائیدادوں کی خرید و فروخت یا انتقال پر مکمل پابندی لگانے کا اختیار حاصل نہیں۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 23 اور آرٹیکل 24 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہری کو جائیداد رکھنے، فروخت کرنے اور اس سے متعلق قانونی لین دین کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اگر کسی انتظامی اقدام سے یہ حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اس کے لیے واضح قانونی بنیاد ہونا ضروری ہے۔ بصورت دیگر ایسا اقدام آئین سے متصادم تصور ہوگا۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر چند افراد غیر قانونی ہاؤسنگ منصوبوں میں ملوث ہیں تو کارروائی صرف انہی کے خلاف ہونی چاہیے۔ پورے علاقے کے تمام رہائشیوں پر یکساں پابندی عائد کرنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ حکام کو ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے غیر قانونی سرگرمیاں بھی رکیں اور عام شہریوں کے حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔

فیصلے میں درخواست گزار کی ذاتی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا۔ درخواست گزار کی والدہ گردوں کے مرض کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی کی وجہ سے وہ اپنی زمین فروخت کر کے علاج کے اخراجات پورے نہیں کر سکے، جس سے انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ متاثرہ شہریوں کو پابندی لگانے سے پہلے نہ کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ سی ڈی اے یا دیگر متعلقہ اداروں کو غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی سے نہیں روکتا۔ متعلقہ ادارے ماسٹر پلان، زوننگ قوانین اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم ہر اقدام قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔