پڑھے لکھے مرد خواتین کو دھوکہ دینے میں ماہر ہوتے ہیں، بشریٰ انصاری

بشریٰ انصاری نے اپنے ایک حالیہ وی لاگ میں اپنے سابق داماد اور پڑھے لکھے لیکن بدتہذیب مردوں کے رویے پر کھل کر بات کی ہے۔
لیجنڈری پاکستانی آرٹسٹ بشریٰ انصاری نے اپنے ایک تفصیلی وی لاگ میں معاشرے کے پڑھے لکھے مگر ذہنی طور پر بیمار مردوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے سابق داماد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ایسے پڑھے لکھے لیکن بے شرم مرد دیکھے ہیں، جن کی دوسری شادیاں ان کی چالاکی اور عیاری کی وجہ سے کامیاب ہو جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھ اکہ یہ لوگ بہت میٹھا بولتے ہیں، اچھی انگلش بولتے ہیں اور بظاہر بہت مہذب نظر آتے ہیں، لیکن دوسری خواتین یہ بلکل نہیں جانتیں کہ ان کی سوچ کتنی گندی ہے اور وہ اپنی پچھلی زندگیوں میں کیا کچھ کر چکے ہیں۔
بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ ایسے مردوں کے اپنی پہلی بیویوں کے ساتھ کوئی بڑے یا حقیقی اختلافات نہیں ہوتے، وہ صرف مادی اور مالی فائدے کے لیے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : برازیل کے اسٹار فٹبالر نیمار نے بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ایسے مرد اب بھی پڑھی لکھی خواتین کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے ایک انتہائی پڑھی لکھی خاتون سے شادی کی ہے، جو ان کے لیے قربانی دینے کو تیار ہے، حالانکہ لوگوں نے اسے خبردار بھی کیا تھا لیکن اس نے کسی کی نہیں سنی۔ وہ خاتون اب خود کو تباہ کرنا چاہتی ہے، اس کے لیے کمانا چاہتی ہے اور اسے مالی طور پر سپورٹ کرنا چاہتی ہے، تو ایسا ہی سہی۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ اس مرد کو ایک اور شکار مل گیا ہے، وہ شکاری اپنے نرم لہجے اور مہذب رویے سے اپنے شکار کو پھنساتا ہے۔ اسی طرح میری بیٹی کو بھی بیوقوف بنایا گیا تھا اور اب دوسری خواتین بھی تیار بیٹھی ہیں۔
انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ کس طرح ایک پڑھے لکھے صحافی کے بیٹے نے اپنی بیوی کو ڈمبل مار کر قتل کر دیا تھا؟ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہماری بیٹی محفوظ ہے، زندہ ہے اور اب اپنی زندگی میں بلکل خوش ہے۔
Catch all the انٹرٹینمنٹ News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












