دنیا بھر میں قابض قوتوں کو تحفظ حاصل ہے اور محصور عوام نظر انداز ہو رہے ہیں، پاکستانی مندوب

پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے اور قابض قوتوں کو حاصل تحفظ کی وجہ سے محصور عوام پر مظالم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام پر جنرل اسمبلی کے مباحثے میں خطاب کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے خلاف جرائم تہذیب کی بنیادی اقدار کے منافی اور ناقابل معافی ہیں۔ روانڈا اور سربیرینیکا میں نسل کشی کے بعد تحفظ کی ذمہ داری کا نظریہ سال 2005 کے عالمی سربراہی اجلاس میں پیش کیا گیا تھا تاکہ مستقبل میں ایسے ہولناک جرائم کو روکا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج 20 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد دنیا بھر میں تنازعات کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے اور تحفظ فراہم کرنے کا یہ ڈھانچہ انتہائی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے علی خامنہ ای شہید کے جنازے میں سب سے بڑے وفد کے ساتھ شرکت کی، ایرانی سفیر کا اظہار تشکر
انہوں نے واضح کیا کہ طویل تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں عالمی برادری کی نظروں کے سامنے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور وہاں نہ کوئی ذمہ داری ہے، نہ تحفظ اور نہ ہی کوئی احتساب ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے ’پھر کبھی نہیں‘ کا وعدہ ادھورا رہ گیا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سال 2005 کی دستاویز میں تحفظ کی ذمہ داری کو ریاستوں کی انفرادی ذمہ داری اور عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری کے درمیان توازن کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اب صورتحال بلکل بدل چکی ہے اور جو ماضی میں یکطرفہ مداخلت کے حامی تھے، وہ آج اجتماعی ذمہ داری پوری کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قابض قوتوں کو اب بھی تحفظ حاصل ہے اور حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے محصور عوام پر مظالم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ بحران پیدا ہونے کے بعد ردعمل دینے کے بجائے تنازعات کی روک تھام، پیشگی انتباہ کے نظام، امن کے قیام اور طویل المدت تنازعات کے پرامن حل پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعات حل کیے جائیں اور نفرت انگیز تقاریر، اسلامو فوبیا اور معاشروں کو تقسیم کرنے والے نظریات کا مقابلہ کیا جائے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










