امریکہ کے ایران پر ایک بار پھر شدید فضائی حملے، چابہار اور بندر عباس دھماکوں سے لرز اٹھے

امریکہ نے ایران کے متعدد شہروں اور جزائر پر شدید فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں بندرگاہوں، بجلی کے نظام اور ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا ہے۔
امریکی فوج نے ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ کارروائی 15 جون کو ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سب سے شدید ترین اضافہ ہے۔
امریکی سینٹ کام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر آبنائے ہرمز میں ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے بوشہر، چابہار، بندر عباس، سیریک، جاسک اور ابو موسیٰ جزیرے سمیت کئی مشرقی اور جنوبی شہروں کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں : آؤ، تمہارا انتظار ہے، ایک بھی سپاہی زندہ واپس نہیں جائے گا، ایران کا ٹرمپ کی دھمکی پر جواب
ان حملوں میں ایران شہر کے ہوائی اڈے پر ایک فائر فائٹر شہید ہو گیا، جبکہ چابہار شہر کے ایک حصے کی بجلی بند ہو گئی اور وہاں 2 گودیوں اور بحری ٹریفک کنٹرول ٹاور کو نقصان پہنچا۔ ایران کے شمال مشرقی شہر اق قلا میں ایک ریلوے پل پر بھی 7 میزائل داغے گئے، جس سے پٹری کو نقصان پہنچا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ان حملوں سے بوشہر کے جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تاہم چابہار کے امام علی اسپتال پر میزائل کے ٹکڑے گرے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے شروع کیے تھے، اس لیے اسے روکنے کے لیے 20 سے زائد امریکی جنگی جہاز مشرق وسطیٰ کے سمندر میں گشت کر رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









