امریکہ کا جنوبی ایران پر دوبارہ حملہ، بندرعباس اور قشم جزیرے میں دھماکے، ایک ایرانی شہید

امریکہ نے ایران کے جنوبی علاقوں اور اہم بندرگاہوں پر دوبارہ فضائی حملے کیئے، جس کے نتیجے میں بندرعباس اور قشم جزیرے سمیت کئی مقامات پر شدید دھماکے ہوئے، ایک سیکیورٹی گارڈ شہید ہو گیا۔
امریکی افواج نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فوجی کارروائی کی، امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس مہم کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنا اور وہاں سے بحری جہازوں کی بلا روک ٹوک آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر شروع کیے گئے ہیں تاکہ ایرانی افواج کو ان کے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔ اس سے ایک دن پہلے بھی امریکی فوج نے ایران میں 140 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس میں 2 افراد شہید ہوئے تھے۔
امریکی اعلان کے فوراً بعد جنوبی ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکوں کی لہر دوڑ گئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندرعباس کے مغرب میں واقع سیریک کے گاؤں تاہروی، جاسک اور قشم جزیرے کے قریب کئی دھماکے سنے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال، تناؤ کم کرنے پر زور
قشم کے گورنر حسین امیر نے تصدیق کی ہے کہ دشمن نے 10 سے 11 پروجیکٹائل حملوں سے جزیرے میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، تاہم وہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تہران میں موجود نامہ نگاروں کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کی اسٹریٹجک بندرگاہوں چابہار اور بندرعباس کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو پاکستان اور چین کے ساتھ تجارت کے حوالے سے مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔
اس کے علاوہ صوبہ ہارمزگان میں مواصلاتی نیٹ ورک اور صوبہ خوزستان میں پیٹرو کیمیکل کی صنعتوں پر بھی بمباری کی گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اراک ایٹمی پلانٹ کے قریبی علاقے کھونداب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب صوبہ خوزستان کے سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ ماہشہر میں زراعتی پانی کے پمپنگ اسٹیشن پر امریکی حملہ ہوا؎، جس کے نتیجے میں وہاں تعینات ایک سیکیورٹی گارڈ شہید اور 4 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے رات 1 بج کر 35 منٹ سے لے کر 2 بج کر 20 منٹ کے درمیان خوزستان کے 8 مختلف مقامات پر حملے کیے، تاہم انہوں نے اہواز ایئرپورٹ پر حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے شہر کے بیرونی علاقے میں ہوئے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











