پیر، 13-جولائی،2026
پیر 1448/01/28هـ (13-07-2026م)

ترکیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، 6 ماہ میں 70 ہزار گرفتار، افغانی سرفہرست

13 جولائی, 2026 10:32

ترکیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کے دوران 6 ماہ میں ریکارڈ 70 ہزار افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں افغان باشندوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ترکیہ میں غیر قانونی تارکین وطن اور انسانی اسمگلرز کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے ہنگامی آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ ترکیہ کے محکمۂ ہجرت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ریکارڈ 70 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

محکمۂ ہجرت نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد میں 19 ہزار 574 غیر قانونی افغان مہاجرین شامل ہیں، جبکہ ان کو غیر قانونی راستوں سے لانے والے 6 ہزار سے زائد انسانی اسمگلرز کو بھی جیل بھیجا جا چکا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ رواں سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران ہی ترکیہ سے 13 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان شہریوں کو واپس ان کے ملک ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ہیومن رائٹس واچ کی یورپی یونین کے افغان طالبان سے مذاکرات پر سخت تنقید

معروف افغان نیوز ایجنسی ’’دی خاما پریس‘‘ کے مطابق افغانستان میں طالبان رجیم کے آنے کے بعد سے معاشی بدحالی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور خواتین پر عائد صنفی پابندیوں کی وجہ سے لاکھوں افغان باشندے اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

تمام تر سفری مشکلات اور ترکیہ کے سخت کریک ڈاؤن کے باوجود افغان مہاجرین کی جانب سے ترکیہ کے راستے یورپ جانے کی کوششوں کا سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔

عالمی ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کی آڑ میں انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو میزبان ممالک کے امن و امان کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کے تحت افغانستان میں جاری معاشی بربادی اور انسانی حقوق کی پامالی ہی اس غیر قانونی ہجرت کی اصل جڑ ہے اور جب تک افغانستان میں جبر کا یہ موجودہ نظام نہیں بدلتا، تب تک تارکین وطن کا یہ شدید بحران برقرار رہے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔