بدھ، 15-جولائی،2026
بدھ 1448/02/01هـ (15-07-2026م)

پاکستان میں بڑھتی آبادی پر قابو پانے کیلئے حکومت کا بڑا عزم، وزیر خزانہ نے اہم چیلنجز کی نشاندہی کر دی

15 جولائی, 2026 14:53

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے تیزی سے بڑھتی آبادی پر قابو پانا ناگزیر ہے۔

 عالمی یومِ آبادی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بے ہنگم آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی ایسے دو بڑے چیلنجز ہیں جو ملک کی معیشت، وسائل اور ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں یہ مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نیشنل پاپولیشن کونسل کے ذریعے آبادی سے متعلق قومی حکمت عملی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ آبادی پر قابو پانے کے منصوبے کامیابی سے مکمل کیے جا سکیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس قومی پروگرام کے اہداف اور کارکردگی کا جائزہ سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر لیا جائے گا۔ اس عمل کے ذریعے یہ دیکھا جائے گا کہ مختلف منصوبے اپنے مقررہ اہداف حاصل کر رہے ہیں یا نہیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری اصلاحات کی جا سکیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے موجودہ فارمولے پر بھی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل کی تقسیم صرف آبادی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان صوبوں کی کوششوں کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے جو آبادی میں اضافے کی رفتار کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے حالیہ مالی سال کے بجٹ میں مانع حمل ادویات اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق اشیا پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا۔ اس فیصلے کا مقصد عوام کو ان سہولتوں تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام مزید مؤثر بن سکیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے آبادی کے شعبے کے لیے ہر سال تقریباً 600 سے 700 ملین ڈالر کی مالی معاونت دستیاب ہوگی۔ یہ رقم صحت، تعلیم، خواتین کی فلاح، غذائی قلت کے خاتمے اور دیگر سماجی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی تاکہ انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بنگلہ دیش، ایران اور انڈونیشیا نے آبادی میں اضافے پر کامیابی سے قابو پا کر صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی۔ پاکستان بھی ان ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی قومی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے پاپولیشن کنٹرول سائرہ افضل نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت مل کر خاندانی منصوبہ بندی کے مختلف پروگراموں پر تیزی سے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں مانع حمل ادویات کی مکمل دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہزاروں خواتین تک آگاہی بھی پہنچائی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ بچوں کی تعداد سے زیادہ ان کی بہتر تعلیم، صحت اور تربیت اہم ہے۔ ان کے مطابق صرف بیٹے کی خواہش میں مسلسل بچوں کی پیدائش نہ صرف خاندان بلکہ ملک کے وسائل پر بھی اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کے پاکستان میں نمائندے نے بھی انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کو ملکی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مؤثر موجودگی اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔