ہفتہ، 25-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

جرمنی میں پاکستانی نرسوں کیلئے روزگار کے بہترین مواقع، درخواست دینے کا مکمل طریقہ سامنے آگیا

16 جولائی, 2026 09:53

جرمنی میں صحت کے شعبے کو اس وقت تربیت یافتہ نرسوں کی شدید ضرورت ہے، جس کے باعث پاکستانی نرسوں کے لیے بیرون ملک ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔

 بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) کے مطابق جرمنی میں بزرگ آبادی میں مسلسل اضافہ اور طبی عملے کی کمی کے باعث غیر ملکی نرسوں کی بھرتی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی نرسیں بھی مطلوبہ شرائط پوری کرکے جرمنی میں بہتر ملازمت حاصل کر سکتی ہیں۔

بی ای او ای کے مطابق وہ امیدوار جن کے پاس نرسنگ میں تسلیم شدہ ڈپلومہ یا ڈگری موجود ہے، جرمنی میں ملازمت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہیں۔ تاہم درخواست سے پہلے ضروری ہے کہ ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کو جرمن حکام سے باضابطہ طور پر تسلیم کروایا جائے۔ اس منظوری کے بغیر مستقل بنیادوں پر نرسنگ کے شعبے میں کام کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

جرمنی میں نرسنگ کو ایک ریگولیٹڈ پیشہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے ہر امیدوار کو متعلقہ سرکاری ادارے سے پیشہ ورانہ اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہے۔ جرمن نظام کے تحت نرسوں کو "پفلیگے فاخ فراؤ”، "پفلیگے فاخ مان” یا "پفلیگے فاخ پرسن” کے نام سے پیشہ ورانہ اسناد دی جاتی ہیں، جن کے ذریعے جنرل نرسنگ، بچوں کی دیکھ بھال اور معمر افراد کی نگہداشت جیسے شعبوں میں خدمات انجام دی جاتی ہیں۔

حکام کے مطابق نرسنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے اسپتالوں، نرسنگ ہومز، بحالی مراکز، گھریلو نگہداشت کے اداروں اور پالی ایٹو کیئر سینٹرز میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں مریضوں کی دیکھ بھال، علاج کے دوران معاونت، طبی ریکارڈ کی تیاری، ادویات سے متعلق ہدایات پر عمل اور روزمرہ ضروریات میں مریضوں کی مدد شامل ہوتی ہے۔

جرمن حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی نرسوں کے لیے جرمن زبان سیکھنا بھی لازمی شرط ہے۔ امیدوار کو کم از کم جرمن زبان کا B2 لیول سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا تاکہ وہ مریضوں اور طبی عملے کے ساتھ مؤثر انداز میں رابطہ کر سکے۔ اس کے علاوہ صحت مند ہونے کا میڈیکل سرٹیفکیٹ اور اچھے کردار کا ثبوت بھی درخواست کا لازمی حصہ ہے۔

تعلیمی اسناد کی منظوری کے لیے دو مختلف طریقہ کار موجود ہیں۔ پہلے طریقے میں جرمن ادارے امیدوار کی ڈگری کا مقامی معیار سے موازنہ کرتے ہیں۔ اگر کسی قسم کا فرق سامنے آئے تو امیدوار کو اضافی تربیت یا امتحان مکمل کرنا پڑتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ امیدوار براہ راست جرمنی کے تربیتی پروگرام میں داخلہ لے، جس سے منظوری کا عمل نسبتاً تیز اور آسان ہو جاتا ہے، اگرچہ اس صورت میں سابقہ تجربے کو مکمل طور پر شمار نہیں کیا جاتا۔

بی ای او ای کے مطابق یورپی یونین، ناروے، آئس لینڈ اور سوئٹزر لینڈ کے شہریوں کو جرمنی میں ملازمت کے لیے ویزا درکار نہیں ہوتا، تاہم پاکستان سمیت دیگر ممالک کے شہریوں کو ملازمت کے لیے رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ جرمن حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نرسنگ کے شعبے پر یورپی یونین بلیو کارڈ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

اگر کسی امیدوار کی تعلیمی اسناد فوری طور پر مکمل طور پر تسلیم نہ ہوں تو وہ پیشہ ورانہ منظوری کے مخصوص ویزا، ریکگنیشن پارٹنرشپ یا اپرچونٹی کارڈ کے ذریعے جرمنی جا سکتا ہے۔ اس دوران وہ اپنی قابلیت کی منظوری کا عمل مکمل کرکے ملازمت کے مواقع حاصل کر سکتا ہے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت نے غیر ملکی نرسوں کی رہنمائی کے لیے مختلف سرکاری بھرتی پروگرام، پلیسمنٹ ایجنسیاں اور کیریئر گائیڈنس مراکز بھی قائم کیے ہیں۔ ان اداروں کا مقصد صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا اور مستحق امیدواروں کو شفاف انداز میں روزگار فراہم کرنا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔