جمعہ، 24-جولائی،2026
جمعہ 1448/02/10هـ (24-07-2026م)

خواتین سے امتیازی سلوک، افغان طالبان کیخلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ دائر کرنے تیاری شروع

16 جولائی, 2026 12:00

اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر افغان طالبان حکومت کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا۔

اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز نے افغانستان میں برسرِاقتدار افغان طالبان حکومت کیخلاف عالمی عدالتِ انصاف میں قانونی چارہ جوئی کے لیے ایک بڑا مقدمہ تیار کر لیا گیا ہے۔

اس قانونی چارہ جوئی کے تحت افغان طالبان کو خواتین کے حقوق سے متعلق سال 2003 کے عالمی کنونشن کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں پر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

آسٹریلوی تھنک ٹینک ‘دی اسٹریٹجسٹ’ میں شائع ہونے والے ایک خصوصی مضمون میں اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز کی صدر بنائیفر نوروجی نے انکشاف کیا ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے بعد سے اب تک طالبان حکومت خواتین کے حقوق کے خلاف 100 سے زائد غیر قانونی اور سخت احکامات جاری کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں طالبان کی لباس اور داڑھی کے نام پر گرفتاریاں تیز، شہری گھر تک محدود ہوگئے، نیو یارک ٹائمز

ان سخت ترین احکامات کے تحت افغان خواتین پر محرم کے بغیر گھر سے باہر نکلنے، کسی بھی شعبے میں نوکری کرنے اور چھٹی جماعت سے آگے کسی بھی قسم کی تعلیم حاصل کرنے پر سخت پابندی عائد ہے۔

اس تشویشناک صورتحال پر اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ کے ارکان بھی افغانستان کی موجودہ حالت کو صنفی امتیاز اور ظلم کا نام دے چکے ہیں۔

بنائیفر نوروجی کے مطابق آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی اور نیدر لینڈز کی جانب سے ستمبر 2024 میں بھیجے گئے قانونی نوٹس کے بعد اب عالمی عدالتِ انصاف میں دائر ہونے والا یہ نیا کیس افغان طالبان پر دباؤ بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ اقوام متحدہ کے ذریعے کی جانے والی یہ قانونی چارہ جوئی اور مسلسل سفارتی دباؤ ہی افغان خواتین کے حقوق کی بحالی اور ان پر عائد ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کا واحد اور فیصلہ کن ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔