بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کے حساس ڈیٹا کا چوری ہونا عالمی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قرار

بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر کوڈن کولم کی ہزاروں انتہائی حساس فائلیں، نقشے اور ہنگامی کولنگ سسٹم کی تفصیلات ڈارک ویب پر لیک ہو گئیں، جس نے بھارتی جوہری تنصیبات کے تحفظ پر شدید عالمی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کوڈن کولم سے متعلق ہزاروں حساس ترین فائلیں ڈارک ویب پر لیک ہو گئیں، جسے عالمی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
لیک ہونے والے ڈیٹا میں کوڈن کولم پلانٹ کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، معائنہ ریکارڈ، پائپ لائنوں، کیبلز، دروازوں اور ہنگامی کولنگ نظام کی اندرونی تفصیلات شامل ہیں۔
نیوکلیئر پاور سیفٹی کے ڈائریکٹر ایڈون لیمن اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فرینک این وون ہیپل نے خبردار کیا ہے کہ کولنگ سسٹم کی معلومات افشا ہونے سے یہ جوہری پلانٹ اب حملے کے لیے ایک انتہائی آسان ہدف بن چکا ہے۔
انڈیا کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کی، جسے عالمی جوہری ماہرین نے سب اچھا ہے کا دعویٰ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارتی ریاست منی پور میں حالات پھر کشیدہ، آسام رائفلز کے کیمپ پر حملہ
رپورٹ کے مطابق یہ حساس معلومات کوڈن کولم ایٹمی پلانٹ کے کنٹریکٹر ریلائنس انفراسٹرکچر کے ڈیٹا سے چوری ہوئیں، جبکہ اس پلانٹ کے یونٹ 3 اور 4 کا تعمیراتی ٹھیکہ وزیراعظم مودی کے دستِ راست امبانی گروپ کے پاس ہے۔
عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ فائلیں جون سے ڈارک ویب پر موجود ہیں اور بھارتی سائبر ایمرجنسی ادارہ اس کی تحقیقات بھی کر رہا ہے، جبکہ بھارتی سرکاری ادارے اس معاملے پر مکمل خاموش ہیں۔
رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق بھارت کی 73 فیصد تنظیموں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ کبھی سائبر حملے کا شکار ہوئیں یا نہیں، جبکہ 57 فیصد بنیادی سائبر پروٹوکول سے ہی محروم ہیں۔ دفاعی ماہرین نے یاد دلایا کہ یہ کوڈن کولم پلانٹ میں حساس دستاویزات کے افشا ہونے کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ریکارڈ کے مطابق بھارت میں تابکار مواد کی چوری اور اسمگلنگ کے متعدد واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں، جیسے 2021 میں ریاست مہاراشٹر سے 7 کلو گرام قدرتی یورینیم کی بازیابی، 2016 میں یورینیم کی غیر قانونی فروخت کی کوشش اور 2010 میں دہلی کے مایاپوری علاقے میں کوبالٹ-60 کے اخراج کا حادثہ شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھوپال میں زہریلی گیس کے اخراج سے 25 ہزار لوگوں کی جانیں گئیں، جس نے بھارت کی کیمیائی اور نیوکلیئر مواد کو محفوظ رکھنے کی نااہلی کو پہلے ہی آشکار کر دیا تھا، اس لیے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو اب بھارت کو انتہائے تشویشناک ممالک کی فہرست میں شامل کرنا چاہیے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









