امریکہ نے یورپ سے لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا شروع کر دیئے

امریکہ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر یورپ سے اپنے لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔
امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل” کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یورپ میں تعینات اپنے لڑاکا طیاروں کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اخبار کے مطابق امریکی فوج کا یہ اقدام خطے میں اپنی فضائی طاقت کو مضبوط کرنے اور کسی بھی بڑے پیمانے کی جنگی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔
دوسری جانب تہران نے بھی خلیج میں اپنے حملوں میں تیزی لائی ہے، جس سے موجودہ تصادم کے ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرات 100 فیصد بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : 5 دنوں میں 4 ایرانی حملے، اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان، 2 ہلاکتیں
رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کی اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا اصل مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ اسے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملے روکنے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ لڑائی کا یہ موجودہ دور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہے، جہاں واشنگٹن اور تہران دونوں ہی اپنے سخت مؤقف پر قائم ہیں اور پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دے رہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایگزیوس‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے اور ایرانی سرزمین کے اندر موجود جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ویب سائٹ نے 3 امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ واشنگٹن نے اسرائیل میں درجنوں ایندھن بھرنے والے طیارے بھیجیں ہیں، تاکہ کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے لیے پوزیشن کو مضبوط کیا جا سکے۔
اسرائیلی رپورٹس میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی انتظامیہ تہران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی علاقوں کے مزید مقامات کو نشانہ بنانے کے مختلف فوجی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










