عراق کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے نئی آئل پائپ لائن بنانے کا فیصلہ

عراق نے آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے بصرہ سے کرکوک کے راستے ترکیہ اور شام تک ایک نئی اسٹریٹجک تیل کی پائپ لائن بچھانے پر کام شروع کر دیا۔
عراق کے وزیرِ پٹرولیم باسم محمد خدیر نے بتایا کہ عراقی حکومت ملک سے خام تیل کی برآمدات کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئی اسٹریٹجک پائپ لائن کی تعمیر پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
واشنگٹن سے عراقی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت بصرہ سے کرکوک اور وہاں سے ترکیہ کی بندرگاہ جیہان کے ساتھ ساتھ شام کی بندرگاہ بانیاس تک تیل کی پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
عراقی وزیرِ پٹرولیم کا کہنا تھا کہ وزارتِ پٹرولیم کے پاس ایک واضح حکمتِ عملی ہے، جس کے تحت عراق اپنے تیل کی برآمدی راستوں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ خام تیل کی فروخت کے لیے صرف آبنائے ہرمز پر انحصار نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں : بحیرہ ہرمز میں ایسی کارروائی ہوگی، جس کا دشمن نے سوچا نہ ہوگا، بس تھوڑا انتظار کریں، ایرانی افواج
اس بڑے منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے عراقی حکومت نے ایک عالمی کنسورشیم کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس میں امریکی کمپنیاں شیورون اور ٹی ای کیپیٹل سمیت قطر کی یو سی سی کمپنی شامل ہیں۔
وزیرِ پٹرولیم نے بتایا کہ عراقی ماہرین اس وقت اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ بصرہ سے کرکوک اور جیہان تک پائپ لائن کیسے بنائی جائے اور اس کا ایک حصہ شام کے شہر بانیاس تک کیسے منتقل کیا جائے۔
بانیاس شام کا ایک اہم ساحلی شہر ہے جہاں ملک کی بڑی ریفائنری اور بحیرہ روم پر برآمدی ٹرمینل موجود ہے، جو ماضی میں عراقی تیل کی سپلائی کے لیے استعمال ہوتا تھا مگر دہائیوں کی جنگ اور پابندیوں کی وجہ سے بند پڑا ہے۔
یاد رہے کہ عراق اوپیک کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، جو اب تک اپنے تیل کی برآمدات کے لیے مکمل طور پر آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









