پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کیسے طے ہوں گی؟ حکومت نے نیا طریقہ کار واضح کر دیا

Daily Petrol Price Formula Explained Now
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نظام ایک بار پھر تبدیل کیا گیا ہے۔
حکومت نے پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور دیگر اہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لینے کا نیا طریقہ کار متعارف کروایا ہے۔ اس نظام کے تحت عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کا اثر پاکستان میں قیمتوں پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پڑ سکتا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا نظام وقت کے ساتھ کئی مراحل سے گزرا ہے۔ ماضی میں قیمتوں میں اضافہ یا کمی سالانہ بجٹ کے موقع پر کی جاتی تھی۔ بعد میں ماہانہ بنیاد پر قیمتیں مقرر ہونے لگیں۔ پھر یہ طریقہ کار تبدیل ہوا اور قیمتوں کا جائزہ ہر 15 دن بعد لیا جانے لگا۔ حالیہ عرصے میں عالمی حالات کے باعث قیمتوں کے تعین کا عمل ہفتہ وار بنیادوں پر بھی کیا گیا۔
اب حکومت نے قیمتوں کے روزانہ جائزے کا نظام متعارف کروایا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت ہر 24 گھنٹے بعد لازمی طور پر تبدیل ہوگی۔ نئے طریقہ کار کے تحت قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جائے گا اور عالمی قیمتوں، درآمدی لاگت اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر ضرورت کے مطابق ردوبدل کیا جا سکے گا۔
حکومت نے اس نظام کو ابتدائی طور پر نو ماہ کی آزمائشی مدت کے لیے نافذ کیا ہے۔ اس دوران مارکیٹ کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت یہ دیکھے گی کہ نئے طریقہ کار سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی، قیمتوں کے استحکام اور صارفین پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آزمائشی مدت مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق نئی قیمتوں کو عالمی خام تیل کی قیمتوں، پلیٹس عرب گلف اسیسمنٹس اور اصل درآمدی لاگت سے زیادہ قریب سے منسلک کیا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں مقامی قیمتوں میں بھی نسبتاً تیزی سے ظاہر ہوں۔
نئے نظام میں درآمدی پریمیم کے حساب کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اگر پاکستان اسٹیٹ آئل یعنی پی ایس او نے گزشتہ سات کاروباری دنوں کے دوران کوئی نیا پیٹرولیم کارگو درآمد کیا ہو تو اس کارگو کا اصل درآمدی پریمیم اور متعلقہ اخراجات قیمت کے تعین میں شامل کیے جائیں گے۔
اگر سات کاروباری دنوں کے دوران کوئی نیا کارگو درآمد نہ کیا گیا ہو تو قیمت کے حساب میں موجودہ سال کے یکم جنوری سے ریکارڈ کیے گئے اوسط درآمدی پریمیم کو استعمال کیا جائے گا۔ اس طریقہ کار کا مقصد قیمتوں میں اچانک اور غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو کم کرنا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت قیمتوں کا اعلان ہفتے کے پانچ کاروباری دنوں یعنی پیر سے جمعہ تک کیا جا سکے گا۔ ہفتہ اور اتوار کو قیمتوں میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اس طرح ہفتے کے اختتام پر قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
نئے فریم ورک کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ روزانہ قیمتوں کے جائزے کے لیے وزیراعظم یا وفاقی کابینہ سے ہر بار الگ منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ قیمتوں کا تعین ایک مقررہ طریقہ کار کے تحت عالمی منڈی میں گزشتہ سات کاروباری دنوں کے اوسط نرخوں اور موجودہ درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
اس تبدیلی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھنے کی صورت میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بھی نسبتاً جلد اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح عالمی قیمتوں میں کمی آنے کی صورت میں اس کا فائدہ بھی مقامی صارفین تک تیزی سے منتقل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تاہم حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تمام اجزا کو مارکیٹ کے حوالے نہیں کیا۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، کلائمیٹ لیوی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن جیسے اہم مالیاتی اجزا وفاقی حکومت کے کنٹرول میں رہیں گے۔
اوگرا کو ان حکومتی چارجز میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ ان اخراجات یا محصولات میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری ضروری ہوگی۔ اس طرح عالمی قیمتوں سے متعلق حصے کو نسبتاً خودکار بنایا گیا ہے، جبکہ ٹیکسز اور دیگر حکومتی چارجز پر وفاقی حکومت کا اختیار برقرار رہے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












