جمعرات، 23-جولائی،2026
جمعرات 1448/02/09هـ (23-07-2026م)

ایران معاہدے کیلئے التجا کر رہا ہے، لیکن وہ سنجیدہ نہیں، جس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی، مارکو روبیو

23 جولائی, 2026 15:20

امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر کا طریقہ کار آنکھ کے بدلے سر کاٹنے کا ہے، ایران ایک معاہدے کے لیے التجا کر رہا ہے، لیکن وہ سنجیدہ نظر نہیں آتا۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے التجا کر رہا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ سچے دل سے کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی ایران کوئی معاہدہ کرتا ہے تو اسے یا تو توڑ دیتا ہے یا پھر اس کی شرائط تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکہ کی بنیادی ترجیح ایک ایسا ایران ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آ گئے تو سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ دنیا کے ساتھ کیا کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران عقل سے کام نہیں لیتا، اس پر دباؤ اور قیمت ہر رات بڑھتی جائے گی۔

ایرانی حکام کے آنکھ کے بدلے آنکھ والے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر کا طریقہ کار آنکھ کے بدلے سر کاٹنے کا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے اقدامات کی بہت بھاری قیمت چکا رہا ہے اور اس کا صنعتی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے، جس سے اسے اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران عراق شلمچہ سرحدی راستے پر امریکی میزائل حملہ، 2 شہری شہید، 11 زخمی

انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک شدت پسند طبقہ چلا رہا ہے، جسے معاشی مسائل کی کوئی پروا نہیں ہے۔ اگر ایران چاہتا تو مشرق وسطیٰ کا سب سے امیر ملک بن سکتا تھا، لیکن اس کے بجائے وہ اپنا پیسہ حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر جنگجو گروہوں کو دے کر دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کے سعودی عرب کیخلاف اقدامات قابل مذمت ہیں۔ حوثی جو کر رہے ہیں، اس کا نقصان انہی کو ہوگا۔ حوثیوں کو اس معاملے سے دور رہنا چاہیے۔ امید ہے کہ حوثی ملیشیا کشیدگی کم کرے گی، کیونکہ وہ ایران کے ہاتھوں دھوکہ کھا چکی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے سول ایٹمی معاہدے کے بارے میں بھی اہم معلومات دیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ریاض میں ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا اور امریکی انتظامیہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کو منظوری کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

انہوں نے سعودی عرب کو واشنگٹن کا ایک اہم حکمت عملی کا حلیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ملک پرامن سول ایٹمی پروگرام کا فیصلہ کرتا ہے تو امریکہ یہی پسند کرتا ہے کہ وہ کسی اور ملک کے بجائے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔